تحصیل کہوٹہ جو باب کشمیر بھی کہلاتی ہے اور ایٹمی تحصیل ہونے کے ناطے پوری دنیا میں مشہور ہے اس کے ساتھ ساتھ دریائے جہلم بھی گزرتا ہے یہ سب سے پرانی تحصیل ہے ۔ایک وقت تھا کہ یہ سب سے بڑی ایٹمی تحصیل تھی اور یہاں سے آزاد کشمیر کے لوگ پیدل اور دوسرے ذرائع سے سامان لے جایا کرتے تھے چاہیے تو یہ تھا کہ کہوٹہ ایک بڑا کاروباری مرکز ہوتا ،منڈیاں ہوتیں دوسرے علاقوں کے اڈے ہوتے اور لوگ پنڈی یا دوسرے علاقوں سے خریداری کرنے کے بجائے اس ایٹمی تحصیل سے خریداری کرتے مگر بد قسمتی سے اس علاقے کے لوگوں نے جس طرح قربانیاں دیں اتنا ہی اس کو پسماندہ رکھا گیا اس علاقے کے لوگ جرنل بھی ہیں وزیر بھی ہیں مٹی نے اچھے سیاستدان پیدا کیے ہیں اور کئی فوج میں اپنی فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں اس کے علاقہ جب ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کی باری آئی تو یہاں کے لوگوں نے اپنی زمین گھر بار چھوڑ دیئے اور اس ملک
کو ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ہر دور میں اس علاقے کے عوامی نمائندے اقتدار میں موجود رہے چاہے وہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہو یا پیپلز پارٹی کی مگرستم ظریفی یہ ہے کہ اس تحصیل کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔اس بڑی تحصیل کے اس سے قبل بھی کئی حصے کیے گئے کلر سیداں کو الگ کیا گیا پھر کوٹلی ستیاں کو الگ کیا گیا ٹھیک ہے کہ ایسا کرنے سے عوام علاقہ کو مشکلات سے چھٹکارا ملتا ہے اور مسائل حل ہوتے ہیں مگر سوچنے والی بات ہے کہ چند سال قبل بننے والی تحصیلوں میں کالج ،جدید ہسپتال، بائی پاس،موٹروے،ایئرکنڈیشن بسیں اور دیگر چیزیں موجود ہیں تو اس ایٹمی اور پرانی تحصیل کا کیا قصور ہے آج تک اس تحصیل کے لیے کوئی میگا پراجیکٹ نہیں دیا گیا اس علاقے کا وفاقی وزیر پٹرولیم ہونے کے باجود گیس کی شدید قلت ہے کئی علاقوں میں گیس موجود ہی نہیں ہے جہاں موجود ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گیس نایاب ہے ۔میاں نواز شریف نے کہوٹہ انتخابی جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ پنڈی سے کہوٹہ موٹر وے بنائیں گے مگر آج تک ایسا کچھ نہ ہوسکا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے زمانے والی سڑک کے لیے شاہد خاقان عباسی نے فنڈز دیئے مگر افسوس کہ تقریباً 40کروڑ روپے کہوٹہ تا آڑی سیداں 12کلر میٹر روڈ پر ہی خرچ کر دیئے گئے اور اب وہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے مزید ایک دو سال بعد دوبارہ اس سڑک کے لیے فنڈز لگانے پڑیں گے کسی نے محکمہ سے پوچھا اور نہ ٹھیکیدار سے کہ اتنی خطیر رقم آخر گئی تو کہاں گئی اگر کوئی پوچھنے والا ہوتا تو آج ان سڑکوں کی حالت بھی روات تا کلر سیداں سڑک جیسی ہوتی مگر آج نہ صرف کہوٹہ آڑی سیداں روڈ بلکہ کہوٹہ مٹور روڈ ،کہوٹہ ہولا ڑ روڈ اور کہوٹہ چوکپنڈوڑی روڈ جن کو ابھی ایک دو سال ہی ہوئے ہیں تعمیر ہوئے ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر رونا آتا ہے ظالمو اگر کھاتے ہو تو حساب کا کھاؤ کم از کم 60%فیصد تو اس پر خرچ کرو مگر کیا کریں ہمارے ملک کو کرپشن نے دھیمک کی طرف چاٹ رکھا ہے ۔ اب ستم ظریفی دیکھیں کہ محکہ صحت کے حوالے سے راولپنڈی کو جو فنڈز ملتے تھے ایم اپی اے راجہ محمد علی کی خصوصی کاوشوں سے زیادہ کیے گئے مگر اس کے باوجود چاہیے تو یہ تھا کہ پسماندہ علاقوں اور زیادہ آباد ی والے علاقوں میں زیادہ فنڈز ملتے مگر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جو لاکھوں کی آبادی کا واحد ہسپتال ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ بھی یہاں ہی آتے ہیں اس کے علاوہ اکثر حادثات میں درجنوں زخمی بھی یہاں آتے ہیں مگر اس ہسپتال کو دوائیوں کے لیے صرف 22لاکھ روپے کے فنڈز ملتے ہں جبکہ مری ، گوجرخان،کلرسیداں میں کروڑوں روپے دیئے جاتے ہیں مجھے یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی بوسیدہ عمارت جو کہ عرصہ قدیم کی بنی ہوئی ہے اس کی مرمتی کے لیے صرف 26لاکھ جبکہ مری،گوجرخان،کلرسیداں کے لیے ایک کروڑ یا اس کے لگ بھگ فنڈز دیئے گئے ۔اب اگر حساب لگایا جائے تو ایک مریض کے حصے میں 10سے 20روپے آتے ہیں ان میں ان کو جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات کیسے دی جاسکتی ہیں ڈاکٹر ہونے کے باوجود غریب لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اورپرائیویٹ ہسپتالوں میں 20سے 30ہزار روپے آپریشن کا دینے پر مجھور ہیں ۔تقریباً ایک دو ماہ ہوئے سابق ایم ایس کی ناقص کارکردگی پر ایم پی اے راجہ محمد علی نے نئے ایم ایس کی تعیناتی کروائی ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں کافی بہتری آئی ہے تھوڑے سے عرصے میں نئے ایم ایس ڈاکٹر مہر اختر حسین نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دی ڈی او ہیلتھ اور ڈی سی او راولپنڈی کی خصوصی دلچسپی سے نہ صرف سپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر اور دیگر ڈاکٹر تعینات کرائے بلکہ پورے ہسپتال میں تبدیلی لانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں کمپنیوں کے تعاون سے خواتین اوربچوں کے لیے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ملازمین کی حاضری کویقین بنانا اور ہسپتال میں صفائی کے نظام کو درست کیا گیا جبکہ دھوبی گھاٹ اور دیگر تعمیرات کے لیے بھرپور کوششیں کی جار ہی ہیں جبکہ مدر چائلڈ سینٹر کی اپ گریڈ کر کے وہاں مزید لیڈی ڈاکٹرز بھی آگئی ہیں لیڈی ڈاکٹر ثمینہ شفقت اور دیگر لیڈی ڈاکٹرز بھی انتھک محنت کرتے ہوئے غریب اورنادار خواتین کی خدمت میں مصروف ہیں اسی طرح اب ایمبولینس کی بھی شکایات کو دور کیا گیا اور بروقت ایمبولینس مہیا کی جاتی ہے ڈاکٹر مہر اختر حسین کی کاوشیں اپنی جگہ درست ہیں اور عوام علاقہ کو ان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے دو تین سو کی او پی ڈی سے اس وقت 8سو سے ہزار تک ہوگئی ہے مگر آخر کب تک ایسے اس نظام کو چلایا جائے گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے اور حکمران اس تحصیل ہیڈ کوارٹدر ہسپتال کو اپ گریڈ کریں اس پرانی اور بوسیدہ عمارت کے بجائے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عمارت کو تعمیر کیا جائے اس سے بھی بڑھ کر اس ہسپتال کے لیے جو کہ لاکھوں کی آبادی والا واحد ہسپتال ہے کے فنڈز 22لاکھ روپے سے بڑھا کر کم از کم ایک کروڑ کیا جائے اسی طرح مستقل طور پر سرجن ڈاکٹر کی تعیناتی اور مرمتی کے سالانہ فنڈز 26لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کیے جائیں تاکہ ان قربانیاں دینے والوں کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے بدقسمتی سے یہ علاقہ مسلم لیگ کا گڑھ ریا یہاں سے نمائندے کامیاب ہوئے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے میٹروبس تو بنائی ،گرین ٹرین بھی بنا رہے ہیں مگر سہالہ پھاٹک پر ہیڈ برج نہ بنا سکے پنجاڑ تا نرڑ روڈ نہ بنا سکے ۔شہری علاقوں میں ترقی کریں مگر دیہی علاقوں کے لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں یہ ان کو معلوم نہ ہوسکا ۔یونین کونسل پنجاڑ اور نرڑ کی سرسبز وادیاں ،گھنے جنگلات، ابشاریں ایک دلفریب منظر پیش کر رہی ہیں اگر اس علاقے پر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو یقین کریں یہ مری سے کم نہیں ہے یہاں کے لوگوں کو روزگار بھی میسر ہوسکتا ہے سیر و تفریح کے لیے بھی لوگ بھی آئیں گے حکومت کو بھی آمدن ہو گی ۔یونین کونسل نرڑ کا علاقہ پنج پیر جو کہ مری کے برابر ہے بلکہ کشمیر کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے حکومت اور منتخب عوامی نمائندے اس پر خصوصی توجہ دے کر اس علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں.{jcomments on}