مسئلہ کشمیر صرف عالمی طاقتوں کی بے حسی کا شکار نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ خود پاکستانی قوم کا رویہ بھی وقت کے ساتھ سرد پڑتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جو ہماری تاریخ، نظریے، جغرافیے اور قومی تشخص سے جڑا ہوا ہے، آج ہماری ترجیحات میں کہیں پیچھے چلا گیا ہے۔ کشمیر ہر لحاظ سے پاکستان کا قدرتی، اخلاقی اور نظریاتی حصہ ہے، مگر عملی طور پر ہم خود اس سے دستبردار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو کشمیر پاکستان کے ساتھ قدرتی طور پر جڑا ہوا ہے۔ اس کے دریا پاکستان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں، اس کی وادیاں ہماری سرحدوں سے جڑی ہیں اور اس کی معیشت کا رخ فطری طور پر پاکستان کی طرف بنتا ہے۔ مذہبی اعتبار سے کشمیر کی غالب اکثریت مسلمان ہے، جن کے مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی رشتے پاکستان کے ساتھ ہیں۔ عوامی جذبات کے اعتبار سے بھی کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان کے حق میں آواز بلند کی، قربانیاں دیں اور نسل در نسل جبر برداشت کیا، بھارتی درندہ صفت سپاہیوں کے سامنے پاکستانی پرچم لہرائے، اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفنایا مگر افسوس کہ ان کی امیدیں آج بھی تشنہ ہیں۔
بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ظلم و جبر ایک کھلی حقیقت ہے۔ کرفیو، گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، انٹرنیٹ بندش اور اظہارِ رائے پر پابندیوں نے کشمیر کو ایک کھلی جیل بنا دیا ہے۔ پانچ اگست 2019 کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، مگر عالمی برادری نے رسمی بیانات کے سوا کچھ نہ کیا۔ انسانی حقوق کے عالمی علمبردار اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے سامنے کشمیریوں کے دکھ درد کو بھول گئے۔
عالمی بے حسی اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ خود پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو کس حد تک اپنی قومی ترجیح بنایا؟ یومِ کشمیر پر تقاریر، بینرز اور وقتی بیانات کے علاوہ عملی سطح پر وہ تسلسل نظر نہیں آتا جو کسی زندہ قومی مسئلے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ہماری سیاست داخلی جھگڑوں میں الجھی رہتی ہے، میڈیا چند دن شور مچانے کے بعد کسی نئے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے اور عوام کی اکثریت روزمرہ مسائل میں اس قدر الجھ چکی ہے کہ کشمیر محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کشمیری عوام آج بھی پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں، مگر انہیں عملی حمایت کم اور بیانات زیادہ ملتے ہیں۔ کشمیری نوجوان ایک ایسی فضا میں جوان ہو رہے ہیں جہاں خواب دیکھنا جرم اور سوال کرنا بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے تعلیمی ادارے بند، معیشت تباہ اور مستقبل غیر یقینی ہے مگر دنیا خاموش ہے اور ہم بھی مکمل قوت سے ان کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دیتے۔
مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرنا صرف کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے مفاد کے بھی خلاف ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ محض سرحدی تنازع نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور تاریخی انصاف کا سوال ہے۔ اگر ہم خود اس مسئلے کو کمزور لہجے میں پیش کریں گے تو دنیا سے انصاف کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ریاستی، سفارتی اور عوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو دوبارہ اپنی اولین ترجیح بنائے۔ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ کشمیر کوئی فراموش شدہ باب نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو ان کا حق نہیں ملتا، تب تک یہ مسئلہ نہ دفن ہو سکتا ہے اور نہ ہی تاریخ ہمیں معاف کرے گی۔ کشمیر آج بھی پکار رہا ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم سن بھی رہے ہیں یا نہیں؟
ضیاء الرحمن ضیاءؔ