تحریک لبیک کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے لگائے گئے امدادی کیمپس اور عطیات اکٹھی کرنا ممنوع قرار،کیمپ کا حصہ بننے والے مذہبی جماعت کے عہدیداران و کارکنان کے خلاف کاروائی کا عندیہ۔تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں اور فلاحی تنظیموں کی طرح ملک میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کیمپس لگائے ہوئے ہے جہاں عوام بڑی تعداد میں نقدی اور سامان کی صورت میں عطیات جمع کروا رہے ہیں اور تحریک لبیک کے امیر سعد رضوی بھی متاثرہ علاقوں کے دورے پر ہیں اس صورتحال میں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ تحریک لبیک پاکستان ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب لاہور نے کالعدم قرار دے رکھی ہے جو کہ چندہ اکٹھا نہیں کر سکتی لہذا انکے خلاف قانونی کاروائی کی جانا مناسب ہو گا جن پانچ امدادی کیمپوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں تھانہ مندرہ کی حدود سکھو میں زیر انتظام اشتیاق رضوی حلقہ پی پی نو گوجرخان،دولتالہ کیمپ زیر انتظام حافظ مزمل سابق امیر دولتالہ گوجرخان،پبلک سیکرٹری آفس چوہڑ چوک تھانہ ویسٹریج فیصل بشیر پی پی 15،تھانہ چونترہ کے ڈھلیال قاری سیفل کارکن ٹی ایل پی،اور جی ٹی چوک گوجرخان حاجی رمضان چشتی سابقہ فورتھ شیڈول کے نام شامل ہیںذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو چندہ اکٹھا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں