مدارس اسلامیہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

آج کل مدارس اسلامیہ میں نئی تعلیمی سال کا آغاز ہے اسی مناسبت سے قارئین کو توجہ اس طرف دلانا بھی مقصود ہے۔تعلیم زندگی ہے،اور جہالت موت،تعلیم سے زندگی سنورتی ہے اور جہالت سے امور بگڑتے ہیں، جہاں تعلیم ہے وہاں روشنی ہے،اور جہاں جہالت ہے وہ ایک اندھیرنگری ہے،

تعلیم سے انقلاب آتا ہے،جبکہ جہالت سے بزدلی پیدا ہوتی ہے، جب جب قوموں نے تعلیم سے اپنا رشتہ جوڑ ا،ان کی ترقی ہوئی،سماج میں انکا مقام بلند ہوا،اور جب تعلیم سے کنارہ کشی ہوئی،وہ آسمان کی بلندی سے تحت الثری تک پہنچ گئی،اسی لئے مذہب اسلام نے تعلیم کو بنیادی سرچشمہ قراردیاہے۔ اللہ کے رسول ﷺکی آ مد سے قبل سرزمینِ عرب میں دنیا کی تمام برائیاں موجود تھیں،کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے،360 خداؤ ں کو وہ لوگ پوجاکرتے تھے، عورتوں کی بے عزتی ہوتی،بچیو ں کو زندہ درگور کرتے،شراب کے وہ رسیا تھے،

ظلم وجور،قتل وغارت گری ان کا شیوہ تھا، باتوں،باتوں میں نا،جھگڑنا،انکی فطرت بن گئی تھی،غرض کوئی ایسی برائی نہ تھی جو اس سماج میں نہ پائی جاتی تھی،مگر اس دور کو دورِ کفر وشرک،دورِ ظلم وجور،نہیں کہا گیا،بلکہ دور جاہلیت سے اس کی تعبیر ہوئی،یعنی ان کی ساری برائیوں کی جڑ جہالت کوقراردیا،اسی لئے آ سمانی ہدایت کی ابتدا بھی اسی سے ہوئی،اور سب سے پہلا پیغام اللہ کی طرف سے حضرت جبرئیل لیکر آ ئے،اور اللہ کے رسول محمدمصطفےٰ ﷺ کے ذریعہ پوری انسانیت کو پہونچایاوہ یہی تھاکہ، پڑھو!پڑھو! اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔

وحی کی ابتدائی تعلیم سے ہوتی ہے،توحید سے نہیں،اور نہ ہی اس بات کا اعلان کیا جارہا ہے کہ ظلم چھوڑ دو،قتل و قتال سے باز آؤ،شراب مت پیو، بلکہ کہا جا رہا ہے، پڑ ھو،چونکہ جب تعلیم آئے گی،تو وحدانیت بھی آئے گی، ایک خدا کا تصو ر ذہن ودماغ میں پیوست ہوگا،ظلمت وتاریکی کا خاتمہ ہوگا، روشنی آئے گی توبرائیاں خود بخود چھٹتی چلی جائیں گی،اورپاکیزہ،اور صالح معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئے گی۔

سب سے پہلی وحی میں تعلیم کی تلقین کے ساتھ رب کے نام کا تذکرہ اس بات کو بتانے کیلئے ہے کہ علم وہ معتبر ہے جو انسان کو اپنے رب تک اور رب کی معرفت تک پہونچا دے، یعنی علم وہ معتبر ہے جس کے ذریعہ اللہ کی رضااور مخلوق خداکی خدمت مقصود ہو،اور یہ وہی علم ہے جس کا سیکھناتمام مسلمانوں کیلئے اللہ کے رسول ﷺضروری قراردیا،اور فرمایا:علم کا طلب کرنا ہر مسلمان فرض ہے۔

کوئی انسان عظیم الشان علوم وفنون کا ماہرہو،مگر انہیں وہ علم حاصل نہیں، جس کے ذریعہ رب کی مرضیات کو سمجھ سکے،عبادت اور اس کے طریقہ کارکو جان سکے،دنیاکی نظروں میں اس کا جو بھی نام ہو،مگر دین وشریعت کی مزاج میں اس کا شمار جاہلوں میں ہی ہوگا،اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ بھلائی کرتاہے اس کو دین کی سمجھ عطاکرتاہے۔

ایک موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:انسان کان ہیں،جیسے سونے،اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں،ان میں وہ لوگ جو زمانہ جاہلیت میں اچھے مانے جاتے تھے،وہ زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہوں گے؛ بشرطیکہ وہ دین کا علم حاصل کریں،اس حدیث میں اللہ کے رسول نے انسانوں کی حیثیت کو واضح کیا،کہ جس طرح زمین سے چھپی ہوئی کانیں مختلف ہوتی ہیں،کسی کان سے لعل ویا قو ت، بر آ مد ہو تے ہیں،کسی سے سونا،چاندی،اور کسی سے تانبا،لوہا،اسی طرح انسان بھی مختلف ہوتے ہیں،کسی کے اخلاق خصائل،اور انسانی اوصاف بہت بلندہوتے ہیں،

اور کوئی اس سے کمتر،یقیناًکفر و شرک کی حالت میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے،جو اپنے اعلیٰ انسانی خصو صیات،واوصاف رکھنے کی وجہ سے سماج و معاشرہ میں اچھے لوگوں میں شمار ہوتے تھے،اللہ کے رسولﷺ نے ا علان کیاکہ اسلام لانے کے بعد بھی اسلامی معاشرہ میں ان اوصاف وخوصوصیات کی وجہ سے وہ ممتاز سمجھا جائے گا، ہاں لیکن شرط یہ ہے کہ انہوں نے دین کا علم حاصل کر لیا ہو،اللہ کے رسول ؐنے اپنے اس ارشادمیں جہا ں یہ بتایا کہ اسلام لانے کے بعد بھی اپنے اوصاف وخصائل کی وجہ سے وہ ویسے ہی محترم سمجھا جائے گا

جیسے اسلام سے قبل ان اوصاف وخصائل کی وجہ سے تھا،لیکن آپ نے یہ شرط قراردیاکہ دین کاعلم ہوناچاہئے۔ تخلیق انسانی کا مقصداللہ تبارک وتعالی نے عبادت کو قراردیا ہے، اور عبادات کو انجام دینا،اس کے فرائض وواجبات کی رعایت؛علم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ہے،اسی لئے امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے بعدکتاب العلم کو بیان کیاہے،یہی بتلانے کے لئے کہ ایمان لانے کے بعدانسان کے ذمہ سب سے پہلافریضہ علم کا حصول ہے،علم ہی کے ذریعہ انہیں اپنی ذمہ داری کا علم ہوگا،فرائض و واجبات کیاہیں؟

کن چیزوں سے بچناہے،اور کن امور کو بجالاناہے،علم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے دوآدمیوں کا تذکرہ ہوا،ایک عابدتھااور ایک عالم‘آپ سے پوچھاگیا،ان دونوں میں سے افضل کون ہے؟آپ نے فرمایا:عالم کو عابدپر ایسی فضیلت ہے جیسے مجھ کو تم میں سب سے معمولی شخص پر،پھر آپ نے فرمایا:اللہ تعالی کے فرشتے،زمین والے،آسمان والے،یہاں تک کہ اپنے بلوں میں چیونٹیاں،اور سمندرکی مچھلیاں،ان کے لئے دعائے خیرکرتی ہیں،جو لوگوں کو تعلیم دینے والاہے، دوسری جگہ آپ نے فرمایا:ایک فقیہ،اور ایک عالم دین شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے بھاری ہے۔علم دین حاصل کرنے کی اتنی بڑی فضیلت ہے

کہ جب اس کا طلب کرنے والاچلتاہے تو فرشتے اپنے پروں کو بچھادیتے ہیں،اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:علم دین کی تحصیل وطلب میں نکلنے والاشخص اللہ کے راستے میں ہے،دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا:اسلام کی تبلیغ ونشر و اشاعت کی غرض سے جو شخص علم حاصل کررہاتھا،اور اسی حالت میں موت آگئی،جنت میں اس طالب علم اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ کا فاصلہ ہوگا،نبی اسرائیل کے دوشخصوں کا تذکرہ ہوا،ایک عالم تھاجو فرض نماز کے بعدلوگوں کو دین کی تعلیم دینے بیٹھ جایاکرتاتھا،دوسراوہ شخص جو دن میں روزہ رکھتا،اور پوری رات نفل میں گذاردیتاتھا،آپ ﷺسے پوچھا گیا، ان دونوں میں سے کون شخص افضل ہے؟رسول اللہﷺ نے فرمایا:اس عالم دین کی فضیلت جو نمازفرض کے بعدلوگوں کودین کی تعلیم دیا کرتا ہے، اس عابد کے مقابلے میں جو دن بھرروزہ رکھتاہے،اورپوری رات نمازیں پڑھتا ہے،ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر۔ پانی کے بغیرمچھلی کی حیات کا تصورممکن نہیں،اس طرح دینی تعلیم کے حصول کے بغیرانسانی حیات کا تصوربھی فضول ہے،

بچوں، نوجوانوں، بوڑھے بزرگوں،اور آنے والی نسلوں کے لئے دین کی بنیادی تعلیم انتہائی ضروری ہے،اس کے بغیر نہ صالح اور پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے اور نہ اسلامی معاشرہ کی بقاء کا تصور کیا جا سکتا ہے، خاص طور سے آج کل کے چھوٹے، بڑے سرکاری،پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش اور جدوجہد انتہائی ضروری معلوم ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں