ماموں کے قتل کا ملزم ضمانت پر رہا

مسعود جیلانی چک بیلی خان سات جولائی 2019کو ایک پولیس ملازم عطر عباس عرف عطی رات کی تاریکی میں اپنے آبائی گاؤں میال میں اپنے گھر قتل ہو گیا تھا معاملہ کھلنے پر پتا چلا کہ اسے اس کی بیوی سمیرا اور حقیقی بھانجے زاہدعرف بگو نے سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ایک اجرتی افتخارکے ہمراہ مل کر قتل کیا تھا زاہد اور سمیرا کا آپس میں معاشقہ تھا مقتول عطر عباس کے اپنی قاتلہ بیوی سمیرا سے عبدالوہاب،تحریم اطہراور عبیرہ اطہر نام کے تین بچے تھے جن کی عمریں بالترتیب سات،چار اور تین سال کے لگ بھگ تھیں تھے قتل کے پہلے دن ہی مقدمہ درج ہونے سے قبل ہی زاہد عرف بگو چور کی داڑھی میں تنکا محسوس کرتے ہی فرارہو گیا پولیس نے مقتول کی بیوی سمیرا بی بی کو گرفتار کیا تو سارا معاملہ کھل گیا سمیرا نے پولیس کو بتایا کہ زاہد عرف بگو اور اس نے سرگودھا سے ایک اجرتی افتخار کو بلوایا رات کوسمیرا نے خاوند کو نیند کی گولیاں دیں سو جانے پہ اجرتی افتخار نے پہلی گولی عطر عباس کو ماری اس کے بعد دو گولیاں سمیرا اورزاہد عرف بگو نے بھی مقتول کو ماریں زیادہ خون بہنے پر سمیر اخون کے دیگچے بھر کر ساتھ والی پلاٹ میں پھینکتی رہی مقدمہ عدالت میں چلا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے زاہد عرف بگو اور سمیرا کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ اجرتی افتخار کو بری کر دیا سزا پانے والے ملزمان نے اعلیٰ عدالت میں اپیل کر دی اور ضمانت کی درخواست بھی دے دی جس پر عدالت نے زاہد عرف بگو اور سمیرا کو مقدمہ کے اندراج میں بعض کمزرویوں کی بنیاد پر ضمانت دے دی مقتول عطر عباس کے لواحقین کے مطابق پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتول کے اجزا کا لیبارٹری تجزیہ اور قاتلوں کی موبائل سمز کا ڈیٹا عدالت کو پیش نہیں کیا جس کا ملزمان کو فائدہ پہنچا اب عدالت کی جانب سے ملزمان کو ضمانت ملنے پر مقتول کے خاندان کے دیگر ان افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جو اس مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں نیزخدشہ ہے کہ جیسے یہ ملزمان اپنی عیاری کے باعث عدالت سے ضمانت لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان کا مقدمہ سے بری ہونا بھی خارج ازامکان نہیں اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہو جاتا ہے تو ملک میں رائج اس نظام اور اس نظام کے لوگوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے ملزمان بجائے جرم کی سزا پانے کے اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے یہاں تک کہ ان کا جرم پھلے پھولے گا مقدمہ کی پیروی کرنے والوں کی دشمنی بڑھنے کے ساتھ ساتھ تین معصوم بچے جو باپ کی قاتلہ،ماں سے چھٹکارا پانے کے بعد راولپنڈی کے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں وہ دوبارہ جرم کی گود میں پرورش کیلئے پہنچ جائیں گے اس طرح ریاستی اداروں کے قوانین کا یہ فیصلہ جرم ختم کرنے کی بجائے فروغ کا باعث بن سکتا ہے جس پر ان اداروں کو غور کرنا چاہیے اور ایسی غلطیاں دور کرنی چاہیئں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں