علامہ اقبال کی نظم مذہب کا شعر ہے
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
اے مسلمان! تجھے اپنی مِلّت اور اس کی تعلیمات کا تقابل اقوامِ مغرب سے نہیں کرنا چاہیے، یعنی تم قومیّت کا اصول مغرب سے مت سیکھو۔ اس لیے کہ اپنی ترتیب و تنظیم کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی اُمّت دنیا بھر کی دوسری قوموں سے قطعی مختلف ہے۔ اس لیے تمہیں اہلِ مغرب کی روِش پر نہیں چلنا چاہیے، بلکہ اسلامی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔مگر غزہ فلسطین کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو افسوس ہی ہوتا ہے کہ ستاون اسلامی ممالک اس ظلم اور بربریت کو دیکھ رہے ہیں مگر کچھ نہیں کر پا رہے اس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک خصوصاً عرب ممالک کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں کچھ عرب ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ ہم نے کوئی اقدام کیا تو امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں
تمام مسلم ممالک کی عوام اجتجاج اور ریلیاں تو نکال رہے ہیں مگر حکمران سوائے مذمتی بیان بازی کے کچھ نہیں کر رہے او آئ سی جو مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم ہے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہی نہتے فلسطینی بچوں اور عورتوں کی آہیں سسکیاں کسی کو سنائی نہیں دے رہیں مسلمان ممالک کم از کم فلسطینی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ اور امداد تو دے سکتے ہیں مگر وہ بھی بہت کم دیکھنے کو مل رہی ہے اخوت بھائ چارہ جو اسلام کا شیوہ ہے مسلم ممالک کے حکمرانوں میں بلکل نظر نہیں آ رہا سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں گو کہ پاکستانی عوام کی ہمدردیاں فسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور بڑھ چڑھ کر اس کا اظہار بھی کیا جاتا ہے مگر حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے جس سے مثبت نتیجہ برآمد ہو اور او آئ سی اور عرب ممالک کو بھی اب ہوش کے ناخن لینے چاہیں کیونکہ اسرائیل کا جو منصوبہ ہے اس پر عمل درآمد جاری ہے
اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو ایک ایک کر کے سب کی بھاری آئے گی تمام مسلم ممالک کو ایک ساتھ فلسطین کے لیے موثر آواز بلند کرنی ہو گی وہاں پر اس وقت اتنا ظلم ہو رہا ہے کہ آئے روز سینکڑوں بچے شہید ہو رہے ہیں یہ مسلمانوں کی نسل کشی ہے جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہی ہے اقوام متحدہ کا ادارہ یہ تمام صورتحال دیکھنے کے باوجود خاموش تماشائ کا کردار ادا کر رہا ہے اس تمام صورت حال میں او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور تمام مسلم ممالک کو مشترکہ حکمت عملی سے اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ فلسطینی مسلمانوں اس ظلم و بربریت سے چھٹکارا مل سکے