گزشتہ چند ہفتوں میں دنیا نے ایک غیر معمولی مگر خطرناک پیش رفت دیکھی ہے: ایک امن“بورڈ”قائم کیا گیا ہے جس میں وہی لوگ شامل ہیں جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بنیامین نیتن یاہو، وہ شخص جس کی قیادت میں مقبوضہ فلسطین کے لوگوں کے خلاف بے تحاشا کارروائیاں، جنگی جرائم اور قتل عام ہوئے اور ڈونلڈ ٹرمپ، وہ امریکی صدر جس نے بین الاقوامی قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور عسکری ہاتھ سہارا دیا، انہیں اب اسی“امن بورڈ”میں شامل کیا گیا ہے۔ اس خبر نے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ عالمی انصاف اور اخلاقیات کے پیمانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
جو لوگ سمجھتے تھے کہ عالمی امن کوششیں انسانی حقوق، انصاف اور بے گناہ انسانوں کی حفاظت کے لیے ہیں، انہیں آج سخت مایوسی کا سامنا ہے۔ امن بورڈ میں ان لوگوں کو شامل کرنا ایسے ہی ہے جیسے“دودھ کا رکھوالا بلا“۔ یعنی وہ جس کی قدرتی حیثیت یا تخصص ہی منافقت اور کمزوری ہو۔ اگر بنیادی اصول یہی ہے کہ قاتل دشمن اور مقتولوں کے خاندان ایک ہی میز پر بیٹھ کر امن قائم کریں، تو سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اس امن کا نام صرف ایک ظاہری ڈھانچہ ہے یا واقعی دنیا نے حق و باطل کے درمیان تمیز ختم کر دی ہے؟
یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مقبوضہ فلسطین میں غزہ کے عوام پر جاری ظلم و بربریت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جنگ بندی کے بظاہر اعلان کے باوجود غزہ میں قتل عام جاری ہے، روز بروز بے گناہ بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں، اسپتال تباہ ہو رہے ہیں، پانی و بجلی تک دستیاب نہیں اور لاکھوں لوگ پناہ گاہوں میں انسانی بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی“امن”کی علامت نہیں، بلکہ امتحان ہے کہ عالمی طاقتیں انصاف، اخلاق اور انسانیت کے نام پر کتنی سنجیدہ ہیں۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ کئی یورپی ممالک نے امن بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ انھوں نے اس منصوبے کو ناقص، غیر حقیقی اور فلسطینی عوام کے حقیقی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کیوں شامل ہوا؟ یہ سوال نہ صرف عالمی مباحث میں زیر بحث ہے بلکہ ہمارے اندر بھی عوامی اور دانشورانہ سطح پر شدید تنقید اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کیا پاکستان کو اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ خود مختار تھایا کسی طرف سے دباؤ کا نتیجہ؟ کیا ہمیں اپنے قومی مفاد، عالمی شہرت اور اصولوں کی حفاظت کا خیال نہیں رہا؟وزیراعظم شہباز شریف کا اس بورڈ میں نام شامل ہونا حیران کن ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ حقِ خودارادیت، انسانی حقوق اور مقبوضہ فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر پاکستان واقعی فلسطینی عوام کی آواز بننا چاہتا ہے، تو پھر وہ ان فورمز میں کیوں شامل ہو رہا ہے جہاں قاتلوں اور مظالم کے سربراہان کو ”امن” کے حصہ دار بنا دیا جاتا ہے؟ یہ ایک اخلاقی تضاد ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف ایک سفارتی غلطی ہے، بلکہ عالمی انصاف کے نظام کی کمزوری کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیا کے طاقت ور ممالک،جو کبھی انسانی حقوق کے علمبردار بن کر خود کو روشن خیال کہتے تھے، آج انہی وجوہات کی بنا پر گھڑے گئے بورڈز کا حصہ نہیں بننا چاہتے، جبکہ ہم جیسے ممالک جو اصولوں کی بات کرتے رہے ہیں، وہ خاموشی یا شرکت کے ساتھ ان پالیسیوں کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں سب سے خطرناک حقیقت یہ ہے کہ امن بورڈ کے فیصلے کا براہِ راست اثر مقبوضہ فلسطین کے مستقبل پر ہو گا مگر کیا یہ وہ مستقبل ہے جس میں فلسطینی عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کر سکیں گے؟ یا یہ وہ بورڈ ہے جس کے نام پر ایک بار پھر مظلوموں کی امیدوں کو ٹھیس پہنچے گی؟ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے، تو اسے سب سے پہلے انصاف کو قائم کرنا ہوگا۔ انصاف وہ بنیاد ہے جس پر حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے، نہ کہ ظاہری فارمولوں اور طاقتوروں کے مفادات کے بیچ۔
پاکستان سمیت امت مسلمہ کو اس وقت محض علامتی اظہارِ یکجہتی کی بجائے اصولی سفارت کاری کرنی چاہیے۔ ہمیں ان فورمز سے دور رہ کر اپنے موقف کو واضح کرنا چاہیے کہ حقیقی امن صرف مظلوم کی آواز کے ساتھ کھڑے ہو کر قائم ہو سکتا ہے نہ کہ ظالم کے ساتھ بیٹھ کر۔ اس وقت ضروری ہے کہ عالمی انصاف کے تقاضے پورے ہوں، قابض طاقتوں کی ذمہ داری عائد کی جائے اور مقبوضہ فلسطین کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے۔ تبھی امن کی شمع روشن کی جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ اس نام نہاد امن بورڈ کی تشکیل ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی عدالتِ انصاف اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں مقبوضہ فلسطین میں ہونے والی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔ ہزاروں معصوم جانوں کے ضیاع، شہری آبادیوں پر بمباری اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات کے باوجود اگر انہی پالیسیوں کے ذمہ دار افراد کو“امن”کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ انصاف کے عالمی نظام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ طاقت ور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے۔ نتیجتاً مظلوم اقوام کا عالمی اداروں پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور عالمی نظام کی ساکھ مزید کمزور پڑتی ہے۔
دوسری جانب امتِ مسلمہ کے لیے بھی یہ لمحہئ فکریہ ہے۔ محض بیانات، قراردادوں اور کانفرنسوں سے آگے بڑھ کر ایک واضح، مربوط اور جراتمندانہ سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اگر مسلم ممالک متحد ہو کر اصولی موقف اختیار کریں تو عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اقتصادی و سفارتی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں اور مقبوضہ فلسطین کے عوام کے لیے حقیقی ریلیف کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ایسے امن بورڈ محض سیاسی نمائشی اقدامات بن کر رہ جائیں گے اور تاریخ یہ سوال پوچھے گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تو طاقت رکھنے والے ممالک کس صف میں کھڑے تھے۔ مظلوموں کے ساتھ یا طاقت ور کے پہلو میں؟
آخر میں ایک سادہ مگر معنی خیز سوال ہمارے ضمیر کو جھنجوڑتا ہے:
اگر قاتل کو امن کے میز پر بٹھا کر امن قائم کیا جا سکتا ہوتا، تو پھر عدالتیں کیا کام آتی تھیں؟
یہی سوال آج پوری دنیا کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.