تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ حکومت نے قیمتوں میں تاریخی اضافہ کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کر کے اسے 321.17 روپے تک پہنچا دیا ہے، جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت بڑھا کر 335.86 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ چند لمحوں میں کیے گئے اس اعلان نے بظاہر صرف قیمتوں میں تبدیلی ظاہر کی، مگر حقیقت میں اس کے اثرات کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی، گھریلو بجٹ اور معاشی حالات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے یہ صرف قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی ابتدا بن جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ہمیشہ کی طرح وہی وضاحت پیش کی جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، خطے میں کشیدگی یا جنگی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور معاشی حالات غیر معمولی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ بظاہر یہ دلائل سننے میں معقول اور منطقی محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ عالمی معیشت کے اثرات سے کوئی بھی ملک مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا۔ لیکن جب یہی وضاحت بار بار دی جائے اور اس کے نتائج ہمیشہ عوام پر ہی پڑیں تو سوالات خود بخود جنم لینے لگتے ہیں۔
عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ابھرتا ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک کیوں نہیں پہنچتا۔ اگر قیمتوں میں اضافہ چند منٹوں میں ممکن ہے تو کمی میں اتنا وقت کیوں لگ جاتا ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر اکثر عوامی حلقوں میں بحث ہوتی ہے، مگر اس کا تسلی بخش جواب شاید ہی کبھی سامنے آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں اصل تیل کی قیمت کا حصہ نسبتاً کم ہوتا ہے جبکہ باقی بڑی رقم مختلف ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں شامل ہوتی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز کا منافع مل کر قیمت کو کہیں زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ یوں ایک عام شہری جب پیٹرول خریدتا ہے تو دراصل وہ صرف ایندھن نہیں بلکہ حکومتی ٹیکسوں اور اضافی اخراجات کا ایک پورا نظام بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔
جب حکومت قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے تو اسے اکثر “مشکل مگر ضروری فیصلہ” قرار دیا جاتا ہے۔ اس بیان کے ذریعے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ قدم ملک کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔ لیکن عوام کے ذہن میں سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ ہمیشہ ان کے لیے ہی کیوں ہوتا ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی کیوں اس فہرست میں شامل نہیں ہوتی۔
ریاستی اخراجات کا حجم ہر سال بڑھتا جا رہا ہے اور حکومتی اداروں کے بجٹ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری وفود کی تعداد بڑھ رہی ہے، وزراء اور مشیروں کی لمبی فہرست موجود ہے اور بیرونِ ملک دوروں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یہ تمام اخراجات آخرکار قومی خزانے سے پورے کیے جاتے ہیں، اور قومی خزانے کا بڑا حصہ دراصل عوام کے ٹیکسوں سے ہی آتا ہے۔
ایک عام شہری کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی کے خرچ میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرنے والا فیصلہ بن جاتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر نقل و حمل کے تمام نظام پر اس کا اثر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو جائے گی۔
جیسے ہی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ بسوں، ویگنوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس کا براہ راست اثر ان لاکھوں لوگوں پر پڑتا ہے جو روزانہ اپنی ملازمت، تعلیم یا کاروبار کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے روزانہ کا خرچ اچانک بڑھ جاتا ہے اور ماہانہ بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے کے بعد یہی اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ سبزی، پھل، آٹا، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء جب ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتی ہیں تو ان کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بازار میں ہر چیز کی قیمت بڑھنے لگتی ہے اور عام آدمی کے لیے ضروری اشیاء خریدنا بھی مشکل ہوتا جاتا ہے۔
یوں پیٹرول کی قیمت میں ایک اضافہ دراصل پورے معاشی نظام میں مہنگائی کی ایک زنجیر کو حرکت دے دیتا ہے۔ ایک فیصلہ جو بظاہر صرف ایندھن سے متعلق ہوتا ہے، درحقیقت روزمرہ زندگی کی تقریباً ہر چیز کی قیمت کو متاثر کرتا ہے۔
اسی وجہ سے عوام کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ معاشی نظام کا زیادہ تر بوجھ صرف عام آدمی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ریاست کے طاقتور اور مراعات یافتہ طبقات اکثر ان اثرات سے نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا معیشت کو چلانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ عوام کی جیب سے مزید رقم نکالی جائے؟ کیا ایسے اقدامات نہیں کیے جا سکتے جن سے حکومتی اخراجات میں کمی آئے اور مالی دباؤ کم ہو؟
کرپشن، نااہلی اور کمزور منصوبہ بندی بھی معیشت پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ جب پالیسیاں مستقل مزاجی اور دور اندیشی کے بغیر بنائی جائیں تو ان کے نتائج بالآخر پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام بڑے مسائل ہیں۔ ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا تاجر جب اپنے ماہانہ اخراجات کا حساب لگاتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آمدنی وہی ہے مگر اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس فرق کو پورا کرنا اس کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی بنتی جا رہی ہے۔ جب لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے تو معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور عدم اعتماد بڑھنے لگتا ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ریلیف اور سہولت فراہم کرے۔ لیکن جب ہر معاشی بحران کا حل صرف قیمتوں میں اضافہ بن جائے تو عوام کے اعتماد پر بھی اثر پڑتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں مہنگائی کے دوران عوام کو سہولت دینے کے لیے سبسڈی، ٹیکس میں کمی اور دیگر اقدامات کرتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کو کم سے کم نقصان پہنچے اور معاشی استحکام برقرار رہے۔
پاکستان میں اکثر اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے جہاں معاشی دباؤ کم کرنے کے بجائے براہ راست قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں مایوسی اور سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی اسی طرز فکر کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فیصلہ اوپر کی سطح پر کیا گیا اور اس کے اثرات براہ راست عام لوگوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقہ خود ان اثرات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا کیونکہ سرکاری مراعات، الاونسز اور مفت سہولتیں انہیں مہنگائی کے براہ راست دباؤ سے بچا لیتی ہیں۔
اس کے برعکس ایک عام شہری کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے پیٹرول کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس کی زندگی کے اخراجات میں ایک اور اضافہ ہوتا ہے۔
اگر واقعی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پالیسیوں میں توازن پیدا کرنا ضروری ہوگا۔ صرف عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات میں کمی اور بہتر معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
جب تک فیصلوں کا مرکز صرف عوام کی جیب رہے گا تب تک معاشی مشکلات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اور ہر بار یہی منظر دہرایا جائے گا کہ فیصلہ کہیں اور ہوگا اور اس کا بوجھ ہمیشہ عوام ہی اٹھائے گی۔