ضلع مری کا ہیڈکوارٹرعوامی مفاد اور سیاسی ترجیحات کی کشمکش

ضلع مری کا قیام اس خطے کے عوام کے لیے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر تھا، جس کا مقصد انتظامی امور کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا اور کوہسار کے باسیوں کو طویل مسافتوں سے نجات دلانا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں ضلع مری کے ہیڈکوارٹر کے مقام کے تعین پر اٹھنے والا تنازعہ ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

ایک طرف ”پڑھنہ“ کے مقام پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اور سابقہ حکومت کی قانونی پیش رفت ہے، تو دوسری طرف موجودہ سیٹ اپ کی جانب سے ”لوئر ٹوپہ“ منتقلی کی مبینہ کوششیں‘ جس نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

گزشتہ روز غوری ٹاؤن میں بریگیڈیئر (ر) سلطان محمود ستی کی صدارت میں منعقدہ ”پڑھنہ ضلعی ہیڈکوارٹر کمیٹی“کا اجلاس محض ایک بیٹھک نہیں تھی، بلکہ یہ اس خطے کے عوامی جذبات کا عکاس تھا۔ اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور سماجی رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ”پڑھنہ“ کا مقام محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک جغرافیائی ضرورت ہے۔پڑھنہ کا مقام تحصیل کوٹلی ستیاں اور مری کے لوئر بیلٹ کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نہ صرف اتفاقِ رائے ہوا بلکہ مقامی مالکان نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 128 کنال سے زائد قیمتی اراضی ضلعی ہیڈکوارٹر کے لیے وقف کی۔

تمام انتظامی منظوریوں اور فنڈز کے اجرا کے باوجود، اب اس مقام کو تبدیل کر کے لوئر ٹوپہ منتقل کرنے کی خبروں نے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔سابق ایم پی اے میجر (ر) لطاسب ستی کی حالیہ پریس کانفرنس نے اس معاملے کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ان کا یہ موقف انتہائی وزن رکھتا ہے کہ مری شہر پہلے ہی ٹریفک کے سنگین مسائل اور گنجان آبادی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں ہیڈکوارٹر کو مری کے قریب لوئر ٹوپہ منتقل کرنا نہ صرف انتظامی طور پر غلط فیصلہ ہوگا بلکہ کوٹلی ستیاں اور مری کے دور افتادہ علاقوں کے عوام کے لیے رسائی کو مزید مشکل بنا دے گا۔

میجر لطاسب ستی کا یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب 128 کنال زمین اور اڑھائی ارب روپے کے فنڈز پڑھنہ کے لیے موجود تھے، تو محض 45 کنال کی محدود جگہ پر ہیڈکوارٹر منتقل کرنے کی منطق کیا ہے؟
بریگیڈیئر (ر) سلطان محمود ستی کی جانب سے پیش کیا گیا ”کانسپٹ پیپر“ اور فیکٹس پر مبنی پریزنٹیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑھنہ کمیٹی اس معاملے کو جذباتی نہیں بلکہ علمی اور انتظامی بنیادوں پر لڑ رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر نوید ستی اور اخلاق ستی کی جانب سے سرکاری دستاویزات کی فراہمی نے اس دعوے کو مزید تقویت دی ہے کہ پڑھنہ کا انتخاب ایک مکمل قانونی عمل کا نتیجہ تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کا مقصد عوام کی سہولت ہوتا ہے۔ اگر ایک ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے جو آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے سفری مشکلات کا باعث بنے، تو ضلع بنانے کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے درمیان جو ہم آہنگی ”پڑھنہ“ کے مقام پر نظر آ رہی ہے، وہ اس خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک نیک شگون ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ حکومت اور منتخب نمائندگان اس معاملے کو ”سیاسی انا“ کا مسئلہ بنانے کے بجائے ”عوامی مفاد” کی نظر سے دیکھیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور بند کمروں کے فیصلوں کے بجائے شفافیت کو ترجیح دی جائے۔ اگر عوام کے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا تو یہ نہ صرف انتظامی بحران پیدا کرے گا بلکہ سیاسی سطح پر بھی ایک ایسی خلیج پیدا کر دے گا جسے پاٹنا مشکل ہوگا۔

پڑھنہ ضلعی ہیڈکوارٹر کمیٹی کا متفقہ مطالبہ اور میجر لطاسب ستی کا قانونی موقف ایک ہی نکتے پر مرکوز ہے: ”انصاف اور عوامی سہولت”۔ اب گیند حکومتِ پنجاب کے کورٹ میں ہے کہ وہ مری کے مستقبل کا فیصلہ فائلوں کی بنیاد پر کرتی ہے یا عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کے مطابق۔