
ہمیں استعمار سے آزادی حاصل کیے لگ بھگ 76 برس ہونے کو ہیں لیکن قوموں کی صف بندی میں ہم سب سے اخری صف میں کھڑے ہیں۔تھائی لینڈ،فلپائن حتی کہ بنگلہ دیش جو معاشی استحکام اور ترقی کے حوالے سے ہم سے کہیں پیچھے تھے لیکن آج وہ ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ہمارے یہاں سیاست کے نام پر جو کچھ ہوتا رہا ہے وہی کچھ آج بھی ہورہا ہے اور شاید کل بھی یہی ہوگا سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری نے اس ملک کے عوام کو محکوم بنا رکھا ہے یہ لوگ اپنے علاوہ نہ کسی کی بات کرتے ہیں
اور کسی کی بات سنتے ہیں اس نگار خانے میں عوام کی آواز طوطیوں سے زیادہ کچھ نہیں۔حزب اقتدار ہوں یا حزب اختلاف سب عوام کی ہمدردی کا ناٹک کرتے ہوئے انہیں افیون کھلا کر سُلاتے ہیں جبکہ عملاً ہمارے لیے کچھ بھی نہیں۔ان کی مفاد پرستی نے عوام کو ذہنی مریض بناچھوڑا ہے۔انسانیت گندی اور گھناؤنی بیماریوں میں پڑی سڑ رہی ہے۔افلاس اس کی پٹی سے لگا بیٹھا ہے اور خون چوس رہا ہے اور محرومیاں اس پر جھکی اس کے زخموں سے نکلتی پیپ چاٹ رہی ہیں
اور اس کے تیمار دار ہیں کہ اپنا سانس روکے اس سے دور کھڑے ہیں۔جو آتا ہے جلد صحت یابی کی خوشخبری سناتا ہے انسانیت امید کرتی ہے اور اس امید پر کچھ وقت گذر جاتا ہے پھر مایوسیاں عوام آج نہ سہی کل کی۔امید پر زندگی بسر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔مگر یہاں نہ آج والے
امید بنے نہ کل والے۔یہاں سب فضول ہیں جوہٹائے گئے وہ بھی فضول جو لائے گئے وہ بھی فضول یہ سب باطل ہیں یہ سب ایک ہی مداری کے جمہورے ہیں۔جن کا مقصد صرف حصول اقتدار ہے۔یہ سب جھوٹ فراڈ جعل سازی میں یکتائی رکھنے والے گروہ ہیں یہ گروہ قوت واخوت ایمانداری اور سچائی کے ہرمحاذپر پسپا ہیں کیونکہ ان گروہوں کے لوگ اپنی اپنی ذات کی قید میں ہیں۔گذشتہ پچہتر برسوں سے قوم ان کے جھوٹ پر آمید باندھے زندہ ہے۔حالیہ الیکشن کے نتیجے میں بننے والی وفاقی وصوبائی حکومتیں اقتدار میں آچکی اور حسب سابق جھوٹ۔جعلی کارکردگی کی وڈیو تصاویر کا مقابلہ جاری ہے
۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے عوامی بھلائی کے حوالے سے کافی منصوبوں کے اعلانات سامنے آچکے۔جن میں محترمہ نے چاچا کی طرح ٹائم کی حد بھی مقرر کی ان میں ایک منصوبہ صاف ستھرا پنجاب ہے جس کے لیے انہوں نے پنجاب بھر کی انتظامیہ کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا اعلان کے مطابق ایک ماہ میں پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے نجات دلوایا جانا تھا۔ہوسکتا ہے کہ اس اعلان کا کچھ اثر
شہروں کی حد تک تو ہوا ہو لیکن دیہاتوں میں اس پر عمل نظر نہیں آتا۔یونین کونسل بیول کی انتظامیہ نے تو وزیراعلیٰ کے ان احکامات کو ہوا میں اُڑا دیا ہے بیول میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر بدستور جگہ جگہ اسی طرح موجود ہیں گٹروں سے ابلتا گندہ پانی سڑکوں پر تالاب کا منظر پیش کررہا ہے۔گندگی کے ڈھیروں سے اُٹھنے والا تعفن فضا کو الودہ کرنے کے علاوہ بیماریوں کاموجب بھی بن رہا ہے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات بیول کانسی پل کے نیچے گندگی کے ڈھیروں کی موجودگی ہے جس کے باعث پانی میں الودگی پھیل رہی ہے۔ایک وقت تھا کہ پل کے نیچے سے گذرنے والا یہ پانی انتہائی صاف وشفاف ہوا کرتا تھا پانی میں موجود پتھر اور چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کے غول دیکھنے والوں کو مسحور کردیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ جدت نے پلاسٹک کے بیگ تھا
مے۔ہماری بیویوں،بیٹیوں اور بہوں کو پرانی روایات کے مطابق بچوں کو بار بار دھونے سے بچانے کے نہیں ڈآئپر کے استعمال پر لگا دیا جس سے دوہرا نقصان ہوا۔امیر گھرانوں کے ساتھ غریب لوگ بھی اس جدت کو اپنانے پر مجبور ہوئے جس سے ان پر مالی بوجھ بڑا اور پھر یہ استعمال شدہ گندے ڈائپر ہمیں سڑکوں کے کنارے،برساتی نالوں اور گلی محلوں میں جگہ جگہ پڑے نظر آنے لگے۔جدت نے ہمیں جہاں سہولیات فراہم کیں وہیں ہمارے لیے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ہم شعوری طور پر یورپ سے صدیوں پیچھے ہیں ہمیں ان چیزوں کا استعال کرنا تو آیا لیکن ہم استعمال کے بعد ان اشیاء کو تلف کرنے کا عمل نہ سیکھ سکے آ
ج ہماری فضا اس قدر الودہ ہوچکی کہ ہم اپنی ہرسانس میں ہزاروں جراثیم جسممیں اتارنے پر مجبور ہیں۔بات ہورہی تھی صاف ستھرا پنجاب کے اس نعرے کی جو وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے لگایا گیا یونین کونسل بیول تک تو اس نعرے کے اثرات دیکھائی نہیں دیتے یا شاید یونین کونسل بیول پنجاب کی حد میں نہیں کیونکہ یہاں تو کچھ تبدیل نہیں ہوا سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا صاف ستھرا پنجاب کے دلفریب نعرے سے قبل تھا۔ہمارے حکمران عوام کو خوش کرنے کے لیے اس قسم کی لایعنی باتیں کرتے ہیں جن پر عمل مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔میری اطلاعات کے مطابق یونین کونسل بیول میں سنیٹری عملے کے ارکان کی تعداد صرف چار ہے۔جن کے لیے صاف ستھرا پنجاب پروگرام میں بیول کو مقام دلوانا مشکل ہے۔ویسے بھی ہمارے سرکاری اداروں میں بیٹھے افسران اور نچلے ملازمین کب اپنی ذمہ داری احسن طور ادا کرتے ہیں سو وزیراعلیٰ مریم نواز لاہور کی صفائی ستھرائی کو ہی صاف ستھرا پنجاب سمجھ کر اپنے پروگرام کو کامیاب تصور کرلیں۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.