سوشل میڈیا: ایک چمکتی اسکرین اور دھندلائی ہوئی حقیقت

آج کا انسان ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہا ہے جہاں انگلی کی ایک جنبش سے ہزاروں لوگوں تک بات پہنچ جاتی ہے۔ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک نے اظہارِ رائے کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس آسانی کے ساتھ ایک خطرناک رجحان بھی جنم لے چکا ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا اکثر اصل زندگی کی درست عکاسی نہیں کرتی بلکہ ایک بناوٹی، فلٹر شدہ اور بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی تصویر دکھاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر لوگ عموماً اپنی زندگی کے بہترین لمحات دکھاتے ہیں: قیمتی گاڑیاں، پرتعیش کھانے، خوبصورت مقامات اور خوشیوں سے بھرپور چہرے۔ مگر ان تصویروں کے پیچھے موجود مشکلات، پریشانیاں اور جدوجہد اکثر چھپی رہتی ہیں۔ یوں دیکھنے والا یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ دوسروں کی زندگی کامل ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
لائکس، کمنٹس اور شیئرز کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیا گیا ہے، حالانکہ اصل زندگی میں عزت، کردار، محنت اور تعلقات کی قدر ہوتی ہے، نہ کہ ورچوئل تعریف کی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کی تعریف یا تذلیل وقتی شور تو پیدا کرتی ہے مگر حقیقی زندگی میں اس کا اثر اکثر محدود ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کسی کو چند لمحوں میں ہیرو بھی بنا دیا جاتا ہے اور چند لمحوں میں ولن بھی۔ کسی کی ایک ویڈیو وائرل ہو جائے تو وہ مشہور، اور کسی کی ایک غلطی پھیل جائے تو اسے ذلیل کر دیا جاتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔

اصل زندگی میں لوگ اپنے کام، رویے اور کردار سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ کسی ٹرینڈ یا ہیش ٹیگ سے۔ سوشل میڈیا پر ملنے والی عزت اکثر وقتی اور کھوکھلی ہوتی ہے، جبکہ حقیقی عزت مستقل محنت اور اچھے اخلاق سے حاصل ہوتی ہے۔
آج کل سیاست میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں، رہنما اور کارکن اپنے بیانیے کو پھیلانے کے لیے فیس بک پوسٹس، ٹویٹس اور ویڈیوز کا سہارا لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جلسوں کو بہت بڑا، عوامی حمایت کو بے مثال اور مخالفین کو مکمل ناکام دکھایا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔ چند ہزار لائکس کو “عوام کی آواز” قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ دیہات، محلوں اور گلیوں میں لوگوں کے مسائل اور رائے مختلف ہوتی ہے۔

اکثر اوقات منظم ٹیمیں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرینڈ چلاتی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ کوئی خاص جماعت یا لیڈر بے حد مقبول ہے۔ مگر الیکشن کے نتائج یا عوامی ردعمل ثابت کر دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان کتنا بڑا فرق موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر خبر پھیلانے کے لیے تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی شخص بغیر تصدیق کے بات آگے بڑھا دیتا ہے۔ یوں افواہیں، غلط معلومات اور آدھی سچائیاں چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
سیاست میں اس کا خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مخالفین کی ساکھ خراب کی جا سکے یا عوام کو جذباتی طور پر بھڑکایا جا سکے۔ مگر بعد میں جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
حقیقی دنیا میں رشتے، محنت، اخلاق اور خدمت ہی اصل کامیابی کا معیار ہیں۔ گاؤں کی گلی میں کسی کی مدد کرنا، محلے میں عزت سے جینا، لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا — یہ سب وہ چیزیں ہیں جو کسی پوسٹ یا لائک سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔

سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، زندگی نہیں۔ اسے معلومات اور رابطے کے لیے استعمال کرنا مفید ہو سکتا ہے، مگر اسے حقیقت کا آئینہ سمجھ لینا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
سوشل میڈیا کی زندگی حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہاں عزت، شہرت، حمایت اور مخالفت سب وقتی اور مصنوعی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر سیاست میں سوشل میڈیا کو ایک ایسی دنیا بنا دیا گیا ہے جہاں سب کچھ بڑھا چڑھا کر اور اصل حقائق سے ہٹ کر دکھایا جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اس چمکتی اسکرین کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھیں اور اپنی زندگی کے فیصلے ورچوئل دنیا کے شور کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی تجربات، زمینی حالات اور عقل و شعور سے کریں۔

کیونکہ آخرکار اصل زندگی وہی ہے جو ہم جیتے ہیں، نہ کہ وہ جو ہم اسکرین پر دیکھتے ہیں۔