سب سے مقدم پاکستان/عاشر منہاس

عاشر منہاس
27
فروری کی صبح اسلام آباد کی فضا میں جہازوں کی آواز غیر معمولی تھی۔ ابھی ایک دن پہلے ہی بھارتی جنگی طیاروں کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور پاک فوج کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے اگلے ہی دن علی الصبح یہ آوازیں آنے والے کسی خطرے کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں یہ خبر منظر عام پر آئی کہ پاکستانی فضائیہ کے بہادر پائلٹس نے سرحد عبور کرنے پر بھارت کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے بھارت کے دو جنگی طیارے گرا دیے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرلیا۔ اس خبر کو سنتے ہی پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک روز پہلے کی گئی سرپرائز والی بات پر بہت جلد عمل در آمد کر دیا تھا۔ برسوں سے سرحد پہ جاری اس کشیدگی کی وجہ خطہ کشمیر ہے۔ کشمیر اُس جنت کے ٹکڑے کا نام ہے کہ جس کے بغیر پاکستان بالکل ویسے ہی ادھورہ ہے جیسے جسم بغیر دل کے۔ کشمیرکے ساتھ جاری بھارتی مظالم کی جو وجہ میری سمجھ میں آئی ہے وہ ہے ان کا مسلمان ہونا۔ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہ دینا، دھونس اور جبر سے اپنا قبضہ جمائے رکھنا، آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد قرار دینا، اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بہانے معصوم کشمیریوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنا، ان کے بچوں کو پیلٹ گنوں سے عمر بھر کے لئے نابینا کرنا، ان کی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا اور ان کے بوڑھوں کو جوانوں کے لاشے اٹھائے پر مجبور کرنا، یہ سب اس لئے ہے کہ مسلمانوں کے آپس اختلافات کی وجہ سے مسلمان اتحاداور بھائی چارے کا وہ سبق بھول گئے ہیں جو نبی آخر زمان حضرت محمدﷺْ نے دیا تھا۔ یہاں مسئلہ صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ حق اور باطل کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کفار جتنے بھی تعداد اور سازو سامان میں زیادہ کیوں نہ ہوں جیت ہمیشہ مسلمانوں کی ہو ہوئی اور اُس کی وجہ ہماری آقا دوجہاں سے نسبت ہے۔ جب ربِ کائنات نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا تو نبی اکرم نے کفار اور ظلم کے خلاف اعلانِ جنگ کیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ آپﷺ کے دنیا سے رحلت کر جانے کے بعد بھی صحابہ کرام اور ان کے بعد حق پرستوں نے آپ کے مشن کو جاری رکھا۔ جو جوں وقت گزرتا گیا لوگوں کے رویوں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اُس منزل کو عبور کیا تو جنگ کا طریقہ اور زاویہ بدل گیا اگر نہیں بدلا جا سکا تو مسلمانوں کا ایمان اور جذبہ جہاد۔ آج کفار نے ایک دفعہ پھر اُس قوم کو للکارا ہے جو شہادت کے شوق میں زندگی گزارتے ہیں۔ الغرض یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تمہارا ہمارا کوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔ ہم ایک رب کو سجدہ کرنے والے اور تم دنیا کے پجاری، ہمارے لئے موت نام ہے رب سے ملاقات کا۔ بے شک یہ سچ ہے کہ ہمارے سچ آپس کے اختلاف موجود ہیں مگر دنیایہ جان لے کہ جب بات دینِ اسلام پاکستان کی عزت پے آئے گی تو ہم سب یکجا ہیں۔ ہم سب ملکر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہمارے لئے سب سے مقدم پاکستان ہے اور پاکستان کے بعد کشمیری مسلمانوں کی آزادی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی راہ پر چلنے والا بنائے اور اسلام اور پاکستان کو سربلندی عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کے بہتر فیصلے لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں