روحانی ہستیوں کی درگاہوں پر حاضری

تحریر:ارسلان کیانی

آج میں اس سفر کے حوالے سے لکھنے لگا ہوں جو روحانیت اور سکون قلب ہے کہا جاتا ہے کہ ولی اللہ کا ہاتھ زمانے کی نبض پر ہوتا ہے اس خطے میں انہی کے طفیل دین اسلام کی اشاعت اور سر بلندی ہوئی جو سفر نامہ میں تحریر کرنے لگا ہوں یہ ان عظیم درسگاہوں سے وابستگی رکھتا ہے جو حقیقی معنوں میں پیکرِ اسلام عشقِ حقیقی سے سرشار اور عاشق مصطفیٰ ہیں جنکی دینی خدمات عالم اسلام میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں انکی درگاہوں میں دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ فیوض و برکات کے لیے تشریف لاتے ہیں اولیائے کرام کے پاس جانے خانقاہوں پر حاضری دینے سے نہ صرف انسان کی مشکلات ختم ہوتی ہیں بلکہ انکو قلبی سکون ملتا ہے اور لوگ دنیا کے مکروفریب اور دیگر ایسے کاموں جن کے کرنے سے اللہ اور اس کے رسولؐ نے منع فرمایا ان کو چھوڑ کر دین اسلام سے جڑ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اولیاء کرام نے اپنے عمل اور کردار سے ہر زمانے میں بھٹکے ہوئے لاکھوں لوگوں کو راہِ راست پر لایا اولیاء اللہ کی شان اگر میں بیان کرنے بیٹھ جاؤں تو کتنے قلم سوکھ جائیں کہا جاتا ہے کہ شان والوں کا مقام شان والے ہی جانتے ہیں آج میں اس روحانی و جلالی سفر کے حوالے سے لکھ رہا ہوں ویسے تو یہ سفر ہر سال محرم میں طے پاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بابا فضل الدین شاہ کلیامی اپنی ظاہری زندگی میں جب بھی پاک پتن شریف جایا کرتے تھے تو داتا دربار لاہور میں پہلے حاضری دیا کرتے تھے آپ کا کہنا تھا کہ جو میرے عقیدت مند مریدین اور چاہنے والے ہیں وہ پاک پتن بابا فرید گنج شکر جایا کرینگے محرم کی 5اور6تاریخ کو پاک پتن شریف میں بہشتی دروازہ کھولا جاتا ہے اسی نسبت سے 5 اور 6 محرم کو یہ رسم کلیام شریف میں بھی ادا کی جاتی ہے بابا فضل الدین شاہ کلیامی ؒنے اس دور کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ پاک پتن شریف جا کر بہشتی دروازے سے گزر نہیں سکتے وہ یہاں سے مستفید ہو سکتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے عقیدت مندوں کو کس قدر چاہتے ہیں بہر حال جس سفر کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ قافلہ شہباز لا مکاں مخدوم دو جہاں حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کے دربار سے زیرِ قیادت معروف علمی روحانی شخصیت سجادہ نشین دربار عالیہ کلیام شریف سائیں محسن فقیر کے ہمراہ گلشن چشتی صابری بابا فضل الدین شاہ کلیامی کی اجازت لیتے ہوئے اپنی منزل پاک و ہند کی عظیم درگاہ بابا فرید گنج شکر روانہ ہوتا ہے اس سفر میں بابا فضل الدین شاہ کلیامی کے چاہنے والے جن میں ممتاز احمد کلیامی، قمر بھٹی، یاسر کلیامی سائیں اویس فریدی، ارسل محمود ارسل کے علاوہ کثیر تعداد میں مریدین شامل تھے یہ قافلہ دربار عالیہ کلیام شریف سے کھاریاں پہنچتا ہے تو وہاں سائیں محسن فقیر کے چاہنے والے جن میں چوہدری الیاس‘ چوہدری ریاض چشتی قادری انکا پر تباک استقبال کرتے ہیں اور اپنی عرضیاں اور التجائیں بابا فرید گنج شکر کی خدمت میں پہنچانے کی استدعا کرتے ہیں قافلہ دوبارہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ سے چند کلو میٹر پہلے گکھڑ کے مقام پر امجد کلیامی کی جانب سے قافلے کا استقبال اور مہمان نوازی کی جاتی ہے وہاں قافلے نے تقریباً تیس منٹ قیام کیا اور پھر جانب منزل رواں ہو گیا سائیں محسن فقیر کی قیادت میں یہ قافلہ لاہور شادرہ کوپہنچتا ہے کہ ایک عقیدت مند بے صبری سے اس قافلے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اس شخصیت کا نام عبدالقیوم برک ہے جنہوں نے قافلے کا شاندار استقبال کیا اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔خوشبوئیں بکھیرتا ہوا ایک جھرمٹ ایک عظیم درگاہ سندر شریف سید محمد وجیہ السیما عرفانی چشتی کے دربار جا پہنچا سائیں محسن فقیر کی قیادت میں جانیوالے قافلے نے چادر پوشی کی اور خصوصی دعائیں کی خواجہ محمد وجیہ السیما عرفانی چشتی سلسلہ چشتیہ کی عظیم روحانی شخصیت ہیں آپ محقق‘مدبر‘ عالم با عمل سلسلہ چشتیہ کے عظیم المرتبت شیخ طریقت تھے آستانہ عالیہ چشتیہ سندر شریف لاہور میں خواجہ سید محمد صبیب عرفانی چشتی کی جانب سے سجادہ نشین دربار عالیہ کلیام شریف سائیں محسن فقیر کا شاندار استقبال کیا گیا۔اس موقع پر مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس عظیم درگاہ کی عظیم شخصیات حضرت بابا عرفانی چشتی سید محمد صبیب عرفانی کی لکھی گئی کتب بد ست حضرت سائیں محسن فقیر پیش کی گئیں وہاں سے دعائیں لیتا ہوا یہ قافلہ داتا کی نگری روانہ ہوتا ہے اب یہ قافلہ اس عظیم درگاہ کی جانب رخ اختیار کرتا ہے کہ جس کے بارے میں خواجہ ہند 90 لاکھ کافروں کو مسلمان کرنے والے ولی کامل حضرت خواجہ حصین الدین چشتی علیہ رحمہ نے کہا تھا کہ:
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقص راں پیر کامل کاملاں راہ راہنما
بحکم حضرت بابافضل الدین شاہ کلیامی رحمت اللہ داتا گنج بخش کے دربار حاضری کے بعد قافلہ خوشبوؤں کو بکھیرتا منزل کی جانب نکل پڑتا ہے اور بالآخر اس عظیم درگاہ عظیم شخصیت کے آستانے تک آ پہنچتا ہے جو برہان الشریعت ہیں جو سلطان الطریقت جی ہاں شیخ الاسلام حضرت بابا فرید گنج شکر جن کو قرون وسطیٰ کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیا میں سے ایک کہا گیا ہے آپ عظیم صوفی و شاعر ہیں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند دنیا بھر سے حاضری دینے آپ کے مزار پر تشریف لاتے ہیں آپ کی شاعری نے لوگوں کو بیدار کر کے ان کے سینوں میں عشق محمدؐ کو بسایا آج آپ کی شاعری ممبررسول ﷺ پر بھی پڑھی جاتی ہے بہرحال قافلہ پاکپتن شریف پہنچا تو دیوان احمد مسعود چشتی نوجوان روحانی عملی شخصیت کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا حضرت دیوان احمد مسعود چشتی نے سجادہ نشین دربار عالیہ کلیام شریف سائیں محسن فقیر سے انتہائی محبت اورشفقت کا اظہار کیا اب یہ مناظر جو تحریر کرنے لگا ہوں روحانیت کی اوج پر تھے اس عظیم درگاہ پر ہم موجود تھے کہ وہاں سب اپنی بگڑی بنوانے اپنی کشتی پار لگانے آتے ہیں جب قافلہ لڑکھڑاتا ہوا تھکا ہوا بابا فرید مسعود گنج شکر کے مزار مقدس پر پہنچا تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی دنیا بھول بیٹھے قلب نورانی اور سکون سے بھر پور ہو گیا وہاں کی مہک نے ساری تھکان اتار دی پھر سائیں محسن فقیر کی قیادت میں سب نے حاضری پیش کی نگاہیں جھکائیں اور ان کے وسیلے سے اللہ کو عرضیاں پیش کیں بعد ازاں حاضری مزار مقدس بابا فرید گنج شکر قافلے نے رات کا قیام حضرت دیوان احمد مسعود چشتی کے ہاں کیا جہاں حسبِ روایت انکی محبتوں کے ساتھ مہمان نوازی کی گئی کیونکہ وہ اس قافلے کواپنا نہیں بلکہ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کا مہمان سمجھتے تھے۔صبح ہوتے ہی قافلے نے طویل وقت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے قدموں میں گزارا اور اپنے قلوب و اعضاء کو منور کیا جب کہ گیارہویں شریف کی دعا کی گئی اور لنگر تقسیم کیا گیا اپنی التجائیں‘ گزارشات پیش کی گئیں اور واپسی کی تیاری کرنا شروع کر دی گئی قافلے میں موجود کوئی بھی فرد واحد بھی وہاں سے آنے کو تیار نہ تھا کیونکہ وہاں کی کیفیات میں شاید الفاظ میں بیان نہ کر سکوں بہرحال حضرت دیوان احمد مسعود چشتی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا یہاں ایک اور خوبصورت شخصیت بھی موجود تھی جس کا ذکر نہ کرنا زیادتی سمجھوں گا ترجمان ایوان بابا فریدمسعود گنج شکر جنہوں نے قافلے کے ساتھ محبت اور خلوص کا اظہار کیا قافلہ وہاں سے دعائیں لیتا واپسی کی طرف چل پڑا دوران واپسی عارف والا ایک خوبصورت مدرسہ زیرِ تعمیر وہاں کا دورہ کیا گیا یہ اتنا عالیشان مدرسہ تعمیر ہو رہا تھا کہ دیکھنے والے کی زبان سے سبحان اللہ جاری ہو جاتا تھا سائیں محسن فقیر نے اس مدرسے کے روح رواں عامر صاحب کو بہترین مدرسہ تعمیر کروانے اور شاندار تعلیم و تدریس میں اپنا کردار ادا کرنے پر سراہا اور قافلہ جانب قبولہ شریف نکل پڑا آستانہ عالیہ قبولہ شریف پہنچے تو نوجوان روحانی شخصیت گلشن پاک پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی سید سیلمان محسن گیلانی نے پر تبارک استقبال کیا انہوں نے قافلے کی بزرگوں کے مزار میں حاضری کروائی اور مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی سائیں محسن فقیر نے سید محسن گیلانی کا شکریہ ادا کیا اور دعائیں لیتا ہوا قافلہ اپنے سفر کی جانب نکلا اور بالآخر یہ سفر اختتام کی جانب آ پہنچا اور قافلہ حضرت بابا فضل شاہ کلیامی چشتی صابری کے دربار پہنچا اور حاضری دی۔دو دن کا یہ سفر اتنا قیمتی اور روحانی تھا کہ شاید میرے پاس وہ الفاظ نہ ہوں کہ لکھ سکوں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اس قافلے کی نسبت ایسی تھی نگاہ ایسی تھی کہ جہاں یہ قافلہ ہوتا وہاں خوشبو‘ روحانیت تازگی اوج پر ہوتی اور ہر کوئی اس طرح استقبال کرتا جیسے حج کو چلے ہوں میں تمام پڑھنے والوں سے اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر آپ دنیا کی قید سے تنگ ہوں ذہنی و روحانی سکون کے طلب گار ہوں تو ان عظیم درگاہوں کا رح اختیار کریں آپ قلبی و روحانی سکون حاصل کریں گے امید کرتا ہوں کہ اس سفر نامہ سے آپ نے ضرور کچھ سیکھا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں