راولپنڈی عدالت نےعلیمہ خانم کی بریت کی درخواست خارج کردی

راولپنڈی انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی بریت کی درخواست خارج کردی ہے علیمہ خانم نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ذریعے ضابطہ فوجداری کی دفعہ K- 265 کے تحت بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر درخواست گزار اور اس کے وکلا کے علاوہ سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی عدالت میں موجود تھے اس موقع پر پراسیکیوشن نے موقف اختیار

کیا کہ ملزمہ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی 5 مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی اور یہ فرد جرم تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ سیاسی احتجاج کے دوران سارا کنٹرول منتظمین کے پاس ہوتا ہے جبکہ تھیوری آف کنٹرول کہتا ہے کسی بھی ایسے احتجاج میں ملزم کے پاس سارا کنٹرول ہوتا ہے میڈیا کا اس مقدمے سے کسی طرح کوئی تعلق نہیں بنتا میڈیا نے کونسا اپنا وزیراعظم بناناتھا لوگ میڈیا کے کہنے پر

باہر نہیں آئے میڈیا کو گواہ کیوں بنائیں جب یہ خود مان رہے ہیں ہم نےاس احتجاج کیا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے کہنے پر باہر آئے لیکن عدالت کے سامنے نہیں مان رہے اس موقع پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو علیمہ خانم کی میڈیا سے گفتگو کے اقتباسات پڑھ کر سنائے پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ ہر جگہ آئینی حقوق اور تحفظ کا حوالہ دینے والے یہ نہیں جانتے کہ آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی بھی احتجاج یا ریلی قانون کے دائرے میں ہو گی جبکہ ملزمان نے حکومت گرانے کے لئے پرتشدد احتجاج کی مذمت کی درخواست گزار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ احتجاج کا این او سی ہو یا نہ ہو ہم نہیں مانیں گے تو پھر یہ کیسا پرامن احتجاج تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید

اور 170 زخمی ہوئے اس احتجاج میں پورے ملک میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں ملک کو جام کر دیا گیا ملزمان خود تسلیم کرتے ہیں کہ احتجاج کے وقت ہم نے ملک بند کر دیا خیبر پختونخوا سے مسلح جتھے پنجاب لائے گئے پراسیکیوشن نے اپنے دلائل میں بتایا کہ اس مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں اور اس مرحلے پر بریت کی درخواست کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا لہٰذا عدالت سے استدعا ہے ملزمہ کی درخواست بریت خارج کی جائے قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 26 نومبر احتجاج میں علیمہ خانم کا قصور یہ ہے کہ اس نے بھائی سے جیل میں ملاقات کی اور سابق چیئرمین

کا پیغام پارٹی اور عوام تک پہنچایا جبکہ سابق چیئرمین نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا تھا اور پرامن احتجاج کو جمہوری و آئینی تحفظ حاصل ہے ملزمہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مقدمہ میں بتایا گیا کہ علیمہ خانم نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کا پیغام دیا تو پھر کسی صحافی یا میڈیا چینل کو اس مقدمہ میں گواہ یا نامزد نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپکا مطلب ہے کہ میڈیا کو بھی اس مقدمہ میں پھنسایا جائے جس پر وکیل صفائی

نے جواب دیا کہ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ علیمہ خانم اور صحافیوں نے ایک جیسا پیغام رپورٹ کیا حالانکہ جیل ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا کوئی گواہ بھی موجود نہیں جس پر عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خانم نے صرف احتجاج کا پیغام دیا جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں علیمہ خانم نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ مقدمے میں شامل دفعات کسی طور ملزمہ پر لگے الزامات

کو ثابت نہیں کرتے قانون میں ایسا نہیں لکھا کہ پیغام دینے والا ملزم ہو جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 6 میں درج شقیں ملزمہ کے جرم کو ثابت نہیں کرتیں اس تناظر میں یہ کیس بنتا ہی نہیں یہ کیس محض سیاسی انتقامی کاروائی ہے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خانم کی بریت کی درخواست خارج کردی