حکومت،اپوزیشن اور عوام

حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت ترقی کی طرف گامزن ہے حکومتی دعوے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح اور ٹیکسز زیادہ جمع ہوں گے حکومت نے بھاری اکثریت سے بجٹ منظور کرالیا ہے لیکن اپوزیشن اپنے تمام بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ نہ ڈال سکی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو بجٹ منظوری کیلئے محفوظ راستہ فراہم کیا گیاجس بجٹ کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دے کر واویلا کیا جاتا رہا اور ایسا لگتا تھا کہ شاید اب اپوزیشن ذاتی معاملات کے حصار سے نکل کر عوامی مسائل کے حل کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور وہ حکومت کو بجٹ میں سے مہنگائی اور بے روزگاری کا باعث بننے والے عناصر کو نکالنے پرمجبور کر دے گی لیکن اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب مسلسل تقریر کرنے والے اپوزیشن لیڈرنازک اور اہم موقع پر خودبھی غائب پائے گئے بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی بھی بڑی تعداد میں غیر حاضر رہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے اگرچہ حاضری تو لگائی اور اسمبلی میں دھواں دھار خطاب بھی کیا لیکن گوہر مقصود حاصل کرنے میں ناکام رہے صرف ایک دن قبل وزیراعظم کو خطاب نہ کرنے دینے کا اعلان اور دعویٰ کرنے والے چیئر مین پیپلزپارٹی وزیراعظم کے خطاب کے دوران خود ہی غائب رہے اور جو اراکین اپوزیشن اسمبلی میں موجود رہے انہوں نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بارے میں مسلم لیگ کے ترجمان نے بتایا کہ وہ اپنے قریبی عزیز کے فوت ہونے کی وجہ سے بجٹ کی منظوری والے دن اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کر سکے ترین گروپ نے بجٹ منظوری میں کوئی مزاحمتی کردار ادا نہ کیا بلکہ حکومت کا ساتھ دیا اس بجٹ اجلاس نے اپوزیشن اور ترین گروپ دونوں کی قلعی کھول کر رکھ دی حکومتی وزراء اور ترجمانوں کے اس دعوے کو سچ ثابت کر دیا کہ یہ سب این آر او کے طلبگار ہیں اور صرف جان کی امان چاہتے ہیں اور یہ کہ عوام جائیں بھاڑ میں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ عوام کی وجہ سے پی ٹی آئی کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے حلقوں میں نہیں جا پا رہے تو اس کے بعد اپوزیشن والے کس منہ سے عوام سے ساتھ دینے کی توقع کر سکتے ہیں اگر وہ اپنی جان چھڑا نے کی ہی فکر اور کوشش میں ہیں تو پھر سیاست اور عوام کی رہنمائی چھوڑ کر کوئی اور کام شروع کر دیں کیا عوام کا کندھا جو پہلے ہی مہنگائی‘بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے بوجھ سے جھکا ہوا ہے ان رہنماؤں کے مفادات کیلئے رہ گیا ہے جب ضرورت محسوس کریں تو اسی کندھے کو استعمال کریں ان کی تقاریرسے صاف نظر آتا ہے کہ وہ صرف اپنی باتیں کرتے ہیں البتہ کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے عوام کا نام اور مہنگائی‘بے روزگاری کا ذکربھی کر لیتے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کا بھی جو اب نہیں کہ ٹی وی چینلز کے کیمروں کے سامنے رونا رو کر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں حکومتی جماعت ہو حکومتی اتحادی ہوں یا اپوزیشن کی جماعتیں ہوں عوام سب کو ووٹ دیتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس نام نہاد جمہوریت کا پھل چند افراد ہی کھاتے ہیں عوام کو تو اب تک یہ پھل کھانا تو درکنار دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا ہے لیکن جمہوریت کے شیدائی پھر بھی گرمی‘سردی اور بارش میں قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کیلئے ووٹ دیتے ہیں تو پھر منتخب ہونے والے نمائندوں کا کیا قصور ہے کہ ان سے گلہ کیا جائے گزشتہ انتخابات میں جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے توبرملاکہتے تھے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں اب روناتو نہیں چائیے حکومت نے بجٹ منظوری کے اگلے دن ہی پٹرول‘ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا بعض احباب اس کو پٹرول بم سے تشبیہ دیتے ہیں اور بعض اس کو مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث قرار دیتے ہیں ابھی توبجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ چینی‘آٹا‘گھی اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اوریہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت بجٹ اور ٹیکسز کے اعداد وشمار کو پورا کرنے میں یکسر ناکام رہے گی سابقہ حکومتوں کو چور‘ڈاکو‘ لیٹرے کہنے والوں نے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ ریلیف فراہم کرنے کے بجائے عوام کا جینا محال کر دیا ہے سابقہ ادوار میں بین الاقوامی اداروں سے قرضہ لینے کو لعنت قراردینے والوں کی حکومت قرضوں کے بل بوتے پر چل رہی ہے جن کی شرائط کی تکمیل کیلئے غریب عوام کو ہی بکرا بنایا جا رہا ہے جمہوری حکمرانوں کی ہمیشہ سے یہ ضد اور ہٹ دھرمی ہے کہ قربانی وہ دیتے ہیں لیکن اس کیلئے بکرا عوام ہی کو بناتے ہیں عوام بھی بھیڑ‘بکریوں کی طرح بخوشی قربان ہونے کیلئے تیار رہتے ہیں شاید اس کو جمہوریت اور جمہوریت کے مزے کہتے ہیں بجلی‘گیس کی بد ترین لوڈشیڈنگ نے تباہی مچا رکھی ہے کارخانوں کی بندش اور کاروبار میں کمی کی وجہ سے لاکھوں غریبوں کے چولہے بجھ چکے ہیں اس جان لیوا مہنگائی میں مزدوری کی آس ختم ہو گئی ہے لیکن حکومت معیشت کی ترقی کا راگ الاپتے نہیں تھکتی پتہ نہیں کس کی معیشت ترقی کر رہی ہے اس بات کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں