ٹیکسلا۔ جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام واہ کے مقامی قائدین جن میں واہ کینٹ سے راجہ حبیب الرحمٰن، ٹیکسلا سے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی عتیق کاشمیری، حسن ابدال کے امیر عبد المجید، جنرل سیکرٹری سیاسی امور فیصل کیانی، صدر یوتھ ونگ اسجد، چیئرمین مرکزی انجمن تاجران واہ کینٹ نعیم اشرف، وائس چیئرمین سہیل احمد نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسن ابدال تا ٹیکسلا سڑک کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک کی خستہ حالی اور حکومتی نااہلی کے باعث آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ہمارے بچے گاڑیوں کے نیچے کچلے جا رہے ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران 997 حادثات رونما ہو چکے ہیں ہم صرف وعدے سنتے رہے جبکہ فنڈز ہونے کے باوجود مسائل حل نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس روٹ پر ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ سڑک کی خستہ حالی اور جگہ جگہ گڑھے پڑ جانا ہے۔ حسن ابدال سے ٹیکسلا تک کا سفر گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے اس صورتحال کو قتلِ عام کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک سولہ کے قریب احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ اداروں سے متعدد ملاقاتیں بھی ہوئیں، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ وفاقی وزیر سمیت کسی بھی حکومتی نمائندے نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ عوام کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کےلیے جلد ہی تحریک کا آغاز کیا جائے گا اس سلسلے میں ایک گرینڈ مشاورتی جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں تمام سیاسی، سماجی جماعتوں، انجمن تاجران،ڈمپرز ایسوسی ایشن، شادی ہال و مارکیز ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو دعوت دی جائے گی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دھرنے کا آپشن بھی استعمال کیا جائے گا
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.