مصباح ملک

بیسویں صدی کے آغاز میں فیکٹریوں کا منظر کچھ یوں تھا کہ ہر چیز مشین کی رفتار اور پیداوار کے حساب سے ناپی جاتی تھی۔ ورکروں کو سخت نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنا پڑتا، ہر لمحے کا حساب لیا جاتا اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس وقت انتظامیہ کا ماننا تھا کہ پیداوار کا راز سخت نگرانی اور نظام کی کارکردگی میں ہے، انسان کی رائے یا جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔
ابتدائی طور پر یہ ماڈل کامیاب لگتا رہا، لیکن بیچ میں ایک غیر متوقع پہیلی نے انتظامیہ کی سوچ بدل دی۔ تحقیق نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا پیداوار صرف مشینوں اور تنخواہوں پر منحصر ہے، یا کارکنوں کے جذبات اور کام سے تعلق بھی اہم ہیں؟
اس وقت یہ سوچ انقلابی تھی۔ بیہیوریئل سائنس کے ماہرین نے ثابت کیا کہ انسان صرف پیسوں سے نہیں بلکہ احترام، پہچان، قیادت کے انداز اور تعلقات سے متاثر ہوتا ہے۔ کارکن وہ بہترین کام کرتے ہیں جہاں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے، شامل کیا جائے اور سراہا جائے۔
جیسے جیسے نفسیات کی بنیادیں مضبوط ہوئیں، اس کے اثرات دفاتر تک پہنچنے لگے۔ مثبت حوصلہ افزائی، تعریفی پروگرام، اور بہتر مواصلات نے دکھایا کہ جب کارکن خوش اور مطمئن ہوں تو ان کی وابستگی اور پیداوار بڑھ جاتی ہے۔اسی دور میں تنظیمی رویے (Organizational Behavior) کا میدان ابھرا، جو نفسیات، سماجیات اور انتظامیہ کو ملا کر یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کیوں کچھ ٹیمیں شاندار کام کرتی ہیں جبکہ بعض کارکن جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔ تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ غیر رسمی گروہ، ٹیم ورک اور باہمی تعاون پیداوار پر گہرا اثر ڈالتے ہیں
کی دہائی تک بہت سی تنظیموں نے انسانی مرکزیت کے ماڈلز اپنانا شروع کر دیے۔ شراکتی انتظام، کارکنوں کی رائے اور ٹیم کی بنیاد پر فیصلے لینے کی سوچ عام ہوئی۔ قیادت اب صرف اختیار نہیں بلکہ اثر و اعتماد اور حوصلہ افزائی بن گئی۔پاکستان میں ان ترقی یافتہ نظریات کا نفاذ سست اور محدود رہا کیونکہ ملک کو ابتدائی دہائیوں میں بنیادی نظام، معاشی ڈھانچے اور ادارے بنانے کی ضرورت تھی۔ تاہم، پاکستانی ثقافت میں مضبوط روابط اور کمیونٹی کی اہمیت ایسی اقدار فراہم کرتی ہے جو جدید بیہیوریئل طریقوں کے لیے سازگار ہیں۔
آج حالات بدل چکے ہیں۔ انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ اہمیت بڑھ رہی ہے۔ تنظیمیں کارکنوں کی وابستگی، قیادت کی تربیت، ثقافت اور حوصلہ افزائی پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کامیابی کا راز یہی ہے کہ آپ اپنے لوگوں سے بہترین صلاحیتیں نکالیں۔آخرکار، نظام ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، لیکن ترقی انسان ہی پیدا کرتا ہے