بابراورنگزیب،پنڈی پوسٹ/پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی تو اسکو بحران در بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایک بحران سے ابھی نکلتے نیں تو سامنے کسی دوسری چیز کے غائب ہونے مہنگا ہونے کی خبر آجاتی ہے مگر حالیہ دنوں میں جب سے کرونا وائرس کی وبا نے اپنے قدم پاکستان کی سرزمین پر رکھے ہیں تو یوں لگتا ہے وہ اپنے ساتھ مہنگائی کے نہ تھمنے والے طوفان کو لے کر اس سرزمین پر آئی ہے اور یہ طوفان ایسا طوفان کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اسکی رفتار کم ہونے کے بجائے زور پکڑتی جارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گھریلوں اشیاءخوردونوش کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگ گئے ہیں کل تک جو چیز سو روپے کی میسر تھی آج وہ دگنی قیمت پر مل رہی ہے دوکانداروں نے قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کر کے گھی، آٹا، دالیں، سگریٹ سمیت ہر چیز مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں عوام اتنی مہنگائی کو دیکھ کر سر پکڑ کے بیٹھ گئی ہے اب ایک اور بحران کا سامنا ہے اور آٹا بحران چل رہا مارکیٹ میں آٹے کی قیمت 11 سو روپے کا 20 کلو والا تھیلا مل رہا ہے جو دو ماہ پہلے تک صرف 800 کا تھا اور یہ اتنا مہنگا اس وقت مل رہا ہے جب گندم کی کٹائی حال ہی میں ہوئی ہے بلکہ پہاڑی اور ٹھنڈے علاقوں میں تو گندم کی کٹائی آج کل ہو رہی ہے کیونکہ وہاں فصل دیر سے تیار ہوتی ہے اس حکومت کا ایک احسن اقدام تھا وہ بھی اس مہنگائی کی نظر ہوگیا وہ تھا پرائس کنٹرول کمیٹیاں علاقائی سطح پر بنانا جس سے یقینی طور پر پرائس پر قابو رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ہر کمیٹی اپنے علاقے کی پرائس کو باآسانی کنٹرول کرسکتی ہے مگر اس حالیہ مہنگائی کی لہر اور خود ساختہ دوکانداروں کے ریٹ دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ یہ کمیٹیاں بھی کئی گھروں میں قرنطینہ کی نظر ہوئی ہیں اور اوپر سے سونے پر سہاگہ انتظامیہ نے بھی چپ کا روزہ رکھ لیا ہے حکومت نے عوام کو مکمل طور پر مہنگائی کے بوجھ تلے روندھ کر اس کے ہی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اب وزیراعظم کو چاہئیے کہ اس عوام پر ترس کھائیں اور اس سارے معاملے میں ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے انکو فعال بنائیں اور وزیراعظم پاکستان بھی عوام پر ترس کھائیں جو پہلے ہی کرونا وائرس کی وجہ سے بیروزگار ہو کر رہ گئی ہے اس کے لیے گھریلوں اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ کم سے کم لوگ دو وقت کی روٹی ہی کھا سکیں