“بسنت ایک کھیل یا تہوار”

تحریر جمیل احمد

دنیا بھر میں مختلف قومی، مذہبی اور ثقافتی تہوار جوش خروش سے منائے جاتے ہیں جو مقامی ثقافت بہار کی آمد، تاریخی اور مذہبی واقعات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
1) برازیل کا تہوار “راؤ کارنیوال” یہ دنیا کے بڑے تہواروں میں سے ایک ہے، یہ فروری اور مارچ میں پانچ دن تک منایا جاتا ہے اس میں مقامی سطح پر ڈانس کلچر اور رنگوں کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔
2) جاپان کا “اوبون” تہوار جو اگست کے مہینے میں منایا جاتا ہے جس میں اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کی تسکین کے لیے رنگوں اور عبادات کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔
3) ہندوستان کا “دیوالی” تہوار جسے روشنی کا تہوار بھی کہا جاتا ہے، اکتوبر اور نومبر میں منایا جاتا ہے۔
4) سکھوں کا بیساکھی تہوار جو 13 اور 14 اپریل میں بہار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
5) عیسائیوں کا کرسمس تہوار جسے عیسائی مذہب کے لوگ 25 دسمبر کو ہر سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی میں مناتے ہیں۔
6) بالکل اسی طرح عید الاضحی اور عید الفطر کے تہوار جو مسلمان سال میں دو مرتبہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔

جس طرح دنیا میں کرکٹ فٹبال ہاکی وغیرہ اہم ترین کھیل مانے جاتے ہیں وہاں ایک دور تھا جب کچھ ایسے کھیل ہوا کرتے تھے جو گلی کوچوں میں تقریبا ہر بچہ کھیلا کرتا تھا، اج کے بچے کمپیوٹر گیمز اور گلیمر کی چکا چوند دنیا میں گم ہو چکے ہیں جس سے ان کی زندگی میں منفی رویے زیادہ اور مثبت رجحان کم نظر اتے ہیں۔
گوکہ ان دیسی روایتی یا ثقافتی کھیلوں سے ذہنی اور جسمانی دونوں ورزشیں ہوتی تھیں، جیسے کہ کشتی، دوڑ، گلی ڈنڈا، لٹو بازی،بنٹے اخروٹ، پٹھو گول گرم، کوکلا چوپائی (جسے عرف عام میں کوڑا جمال شاہی بھی کہتے تھے)، لوکن مٹی، پکڑن پکڑائی، چھپن چھپائی، اسٹاپو (کڑی کاڑھا یا پہل دوجھ) اور پتنگ بازی جس کو دور حاضر میں عین بسنت سے بھی پکارا جاتا ہے۔
ان سب کھیلوں میں بسنت کے لفظی مطلب سنسکرت میں بہار یا اسپرنگ اور کھلنے کا موسم کہلاتاہے اور اردو زبان میں اس سے مراد موسم بہار، پیلا رنگ اور پتنگ بازی ہے۔ جو پھولوں کے کھلنے اور زندگی کی نئی شروعات کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔
دور حاضر میں ہمیں سمجھایا جاتا ہے کہ بسنت یا پتنگ بازی ہندو مذہب کا تہوار ہے جو ہزاروں سال سے ان کی عید کے طور پر معروف چلا آ رہا ہے، جبکہ ایک مستند ریاضی دان اور معروف مؤرخ “ابو ریحان البیرونی” کہتے ہیں کہ اسی مہینے یعنی بیساکھ میں استواء ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے اس حساب سے لوگ اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھانا کھلاتے تھے۔
پہلے پہل تو بسنت تہوار، بہار کے پہلے ہفتے یعنی جب سرسوں کے پیلے پھول لہرانے لگتے تو یہ تہوار صرف پنجاب اتر پردیش اور مدراس کے علاقوں تک محدود تھا پھر تاریخ کے کچھ جھرونکوں سے ہوا آ نے دو کی مصداق ہمیں پتہ چلا کہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک ہندو لڑکے جس کا نام “حقیقت رائے” تھا اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر رکیک حملہ کیا اور جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا بھی سنا دی گئی اور پھانسی پہ لٹکانے کے بعد ہندو اسے خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے مگر اسلامی حکومت کے زیر اثر ہندوؤں کے لیے یہ ناممکن تھا، لہذا اس کی پھانسی والے دن ہندو مذہب کے لوگوں نے پتنگ اڑانا شروع کر دیا (گو کہ یہ تہوار پہلے سے موجود تھا). چونکہ اس گستاخِ رسول “حقیقت رائے” کو سزا اتفاق سے بسنت والے دن دی گئی اور لوگوں نے حسبِ معمول پتنگ بازی کی۔ تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کے اس سال بسنت حسبِ معمول منائی گئی، یا اس ہندو کے مرنے کے غم میں منائی گئی یا اس گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پھانسی پر لٹکانے کی خوشی میں منائی گئی (واللہ اعلم بالثواب).
اب اس تہوار کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش دے ہی دی گئی ہے تو یہ جان لیجئے کہ (انما الاعمال بالنیات) ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
اب ہمیں پتنگ بازی کو اس حقیقت رائے اور گستاخ رسول کے پھانسی پر لٹکانے کی خوشی میں منانا چاہئے، یا اس حقیقت رائے اور گستاخ رسول کے پھانسی کے لٹکنے کہ غم پر، یا حسبِ معمول دوسرے کھیلوں اور تہواروں کی طرح؟.
قارئین کے لئیے حسبِ سابق، کچھ فقہی مسئلے پر بھی روشنی ڈالتاچلوں۔
کسی بھی کھیل کا جائز ہونے کے لیے اس کھیل میں درج ذیل نقاط کا پایا جانا ضروری ہے۔
الف) وہ کھیل بذات خود جائز ہو (یعنی اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو)
ب) کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ ہو
ت) کھیلنے والا اس کھیل میں اس قدر منہمک نہ ہو جائے کہ شرعی فرائض مثلاً نماز، روزہ اور دیگر فرائض میں غفلت کا ارتکاب ہو جائے۔

کسی بھی کھیل خواہ وہ بسنت یا پتنگ بازی ہی کیوں نہ ہو مذکورہ شرائط یا کسی ایک شرط کے خلاف ورزی ہو تو وہ کھیل کھیلنا شرعاً درست نہیں ہے۔ لہذا بسنت کے کھیل میں مذکورہ امور کو مدنظر رکھ کر منانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسلام بذات خود اچھی تفریح کی ترویج اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ البتہ اسلام کامل شریعت اور اعتدال پسند مذہب ہے ہر چیز میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے۔ اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں جس میں تفریح اور زندہ دلی کی کوئی گنجائش نہ ہو بلکہ اسلام فطرت انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو بروئے کار لانے والا مذہب ہے۔ تاہم تفریح اور کھیل کے دوران اپنے گردو نواح کے لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔