بزرگ شہری اور عصر حاضر کے تقاضے

آج کا کالم ان ہستیوں کے نام جو معاشرے اور سماج کی دولت اور جھومر لیکن ہم وہ ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے جس کی اشد ضرورت ہے۔اس وقت اگر کوئی طبقہ مفلوک الحال اور پریشان کن زندگی گزارتا ہے تو وہ بزرگ شہری ہیں۔ایک جائزہ لیں تو معاشرے میں سبھی بزرگ لوگ پینشن تو نہیں لیتے۔ان میں تو ایسے بزرگ لوگ بھی ہیں جنہیں کوئی امداد نہیں مل پاتی۔وہ عزت نفس کو مجروح ہونے بھی نہیں دیتے اور زندہ رہنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔

اس ضمن میں حضرت عمر فاروق ؓ کے دور کی بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ان کے عہد میں بزرگ شہریوں کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔اس ضمن میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
عمر فاروق ؓ کا عہدِ خلافت اور بزرگ شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ کریں تو سبق آموز باتیں ملتی ہیں۔بزرگ شہریوں کی حفاظت کا اصول ملاحظہ کریں تو حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی شہری، خاص طور پر بوڑھے اور کمزور لوگ، کسی قسم کے جبر اور ظلم کا شکار نہ ہوں ان اقدامات کی روشنی میں بزرگ لوگ عہد حاضر میں زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔

غربت بے روزگاری اور مہنگائی کے مصائب برداشت کرتے بزرگ شہری پریشان کن زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یہ بات تو مسلمہ ہے کہ سبھی لوگ پینشن یافتہ اور مراعات یافتہ تو نہیں ہوتے بلکہ بعض بزرگ لوگ انتہائی مجبوری کے عالم میں زندگی بسر کرتے
ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ بڑھاپا فنڈ سب بزرگ شہریوں کو دیا جائے۔تاکہ معاشرے کا یہ طبقہ زندگی کے چند لمحات تو عزت اور آبرو کے ساتھ بسر کر پائیں جو خیال عہد ماضی میں بزرگ شہریوں کا رکھا جاتا تھا اس وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے قیمتی لوگ جن کی قومی اور ملی خدمات پر فخر کیا جا سکتا ہے۔

ان پر بھرپور توجہ دی جائے۔جب ان کے قوائے جسمانی جواب دے چکے تو ایسے عالم میں ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔حکومت وقت بھی بزرگ شہریوں کی زندگی آسان بنانے میں کردار ادا کرے۔طبی امداد اور مصارف زندگی کی فراہمی مفت کی جائے۔ایسے بزرگ لوگ جن کی زندگی خدمت خلق اور خدمت ملت کے لیے وقف رہی ان پر بھرپور توجہ دی جائے۔بزرگ شہری مرد و خواتین کے لیے بڑھاپا الاؤنس مقرر کیا جائے۔ایک بزم میں چند بزرگ شہریوِں نے کہا کہ ہماری آواز بھی تو ایوان اقتدار تک پہنچا دیں۔اس لیے جس حد تک بھی ممکن ہو بزرگ شہریوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔قابل احترام بزرگ شہری تو ملک اور قوم کا بہت بڑا سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔

ان کا خیال رکھنا جہاں اولاد کے لیے سعادت ہے تو حکومت وقت کا بھی مقدس فرض ہے۔تاریخ میں حضرت علی ؓ کے عہد میں بزرگ شہریوں کے لیے جو اقدامات کیے گئے وہ آج بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ان کی روشنی میں بزرگ شہریوں اور معمر افراد کی بحالی کے لیے توجہ کی ضرورت ہے۔یہ بات اچھی طرح جاننے کی ضرورت ہے۔معمر افراد ساٹھ سال کی عمر کے بعد مختلف امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔عمر کے لحاظ سے بزرگ شہریوں کا خیال رکھنا ازحد ضروری سمجھا جاتا ہے اور عصر حاضر کے تقاضے بھی تو یہی ہیں۔تمام بزرگ شہریوں کی کفالت اور دیکھ بھال کے لیے حکومتی سطح پر منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔

تحریر:فخرالزمان سرحدی