ملک بھر کی طرح ضلع اٹک میں بھی موبائل فون چھیننے اور چوری کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ آئے روز شہری اپنی محنت کی کمائی سے خریدے گئے قیمتی موبائل فونز سے محروم ہو رہے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی پولیس ان وارداتوں پر قابو پانے اور چوری شدہ موبائل فونز کو ٹریس کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔
گزشتہ روز اٹک کے نامور شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اٹک راجہ مختار احمد سگھروی کا موبائل فون شہر کے مصروف بازار سے چوری ہو گیا۔ اس واقعے کی رپورٹ تھانہ سٹی اٹک میں بروقت درج کروائی گئی، تاہم تاحال پولیس قیمتی موبائل فون کا کوئی سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے نظامِ تحفظِ شہری پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دور ن شہر اور گرد و نواح میں موبائل فون چھیننے اور چوری کی متعدد وارداتیں سامنے آ چکی ہیں۔ شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں، بازاروں اور عوامی مقامات پر خوف کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ ملزمان بلا خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کا سراغ لگایا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اگر موبائل فون جیسے قابلِ ٹریس آلات بھی بازیاب نہیں ہو پا رہے تو پھر عام شہری کے جان و مال کے تحفظ کا کیا حال ہوگا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ موبائل چوری کی وارداتوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ بازاروں میں پولیس گشت بڑھایا جائے، سیف سٹی کیمروں کو فعال بنایا جائے، موبائل فون ٹریسنگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر پولیس کی کارکردگی کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔
اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ چھوٹے جرائم بڑے جرائم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑے گا۔ عوام اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں ۔
