اسلام آباد کے علاقہ کرپا میں نوجوان کا بیہمانہ قتل

اسلام آباد (نمائندہ پنڈی پوسٹ) مری کے علاقے گھوڑاگلی ملوٹ سے تعلق رکھنے والا نوجوان کو بکنگ کے بہانے لے جاکر تھانہ کرپا کی حدود گلبرگ گرین میں قتل کر کے نعش تیزاب ڈال کر جلادی گٸی ۔جس کی ہڈیاں بعد میں ملزمان کی نشاندہی پر برآمد ہوٸی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ضلع مری کے علاقے گھوڑاگلی ملوٹ سے تعلق رکھنے والا وسیم ولد اسحاق جو اپنے بھاٸیوں کے ساتھ بھارہ کہو اسلام آباد میں رہاٸش پذیر تھا اور جہانزیب خان کی سوزوکی بولان چلاتا تھا۔تھانہ بہارہ کہو پولیس کو 14 اگست 2025 کو جہانزیب خان نے درخواست دی کہ اس نے اپنی گاڑی سوزوکی بولان محمد وسیم ولد محمد اسحاق کو ڈرائیونگ کے لیے دی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق محمد وسیم گزشتہ پانچ ماہ سے گاڑی چلا رہا تھا اور حالیہ دنوں میں وہ میٹرو اسٹیشن سے بھیرہ پل تک سواریوں کو لے کر جایا کرتا تھا۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل محمد وسیم گاڑی میں سواری لے کر گیا لیکن واپس نہ آیا اور اس کے تمام نمبرز بھی مسلسل بند ہیں۔پولیس نے ابتدائی تفتیش میں مقتول کے فون ریکارڈز (CDR) حاصل کیے
جس میں طیب علی ولد لیاقت حسین ساکن ( مری پھگواڑی) سے رابطہ پایا گیا۔ پولیس نے طیب علی کو گرفتار کیا تو دورانِ تفتیش اس نے چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں عبداللہ اور ثناءاللہ وغیرہ کے ہمراہ وسیم کو رینٹ پر گاڑی لے جا کر اسلحہ آتشیں استعمال کرتے ہوئے قتل کر دیا ۔ملزمان نے اعتراف کیا کہ مقتول کی لاش گلبرگ گرین تھانہ کرپا کی حدود میں پھینک دی تھی۔پولیس نے ملزمان کے نشاندہی پر مقتول وسیم کی لاش برآمد کر لی۔مقتول کے ایک قریبی رشتہ دار کا کہنا ہے کہ ملزمان نے قتل کے بعد لاش کو تیزاب ڈال کر جلا دیا تھا بعد میں ملزمان کی نشاندہی پر صرف اس کی ہڈیاں ملی ہیں جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول اور کپڑے بھی پولیس برآمد کرچکی ۔طیب اور عبداللہ پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ ثنااللہ مفرور ہے ۔طیب کا تعلق مری پھگواڑی جبکہ دیگر ملزمان کا تعلق مری دیول سے ہے۔