آئینی ترمیم ایک تفصیلی رپورٹ

رپورٹ: اسلام آباد (حذیفہ اشرف)

نومبر12 2025ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے واضح اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی، جسے بعد ازاں صدرِ پاکستان نے بھی دستخط کر کے آئین کا حصہ بنا دیا۔ اس ترمیم کے ذریعے آئین کے 49 آرٹیکلز میں تبدیلیاں کی گئیں۔ حکومت کے مطابق یہ ترمیم اداروں کے درمیان توازن، شفافیت کے فروغ، اور دفاعی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی، خاص طور پر جنگی حالات اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

تاریخی پس منظرپاکستان کے آئین میں اب تک 27 ترامیم ہو چکی ہیں۔18ویں ترمیم نے صوبوں کو خود مختاری دی۔21ویں ترمیم نے فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ دیا۔25ویں ترمیم نے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا۔26ویں ترمیم نے عدلیہ میں مختلف تبدیلیاں متعارف کرائیں۔27ویں ترمیم انہی سلسلوں کا تسلسل ہے جس کے تحت ریاستی اداروں کی ساخت اور اختیارات کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔

اہم نکات اور بنیادی تبدیلیاں

آرٹیکل 243 میں بڑی تبدیلی دفاعی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔نئی پوسٹ چیف آف ڈیفنس فورس قائم کی گئی ۔ تینوں مسلح افواج کا سربراہ ہوگا اور اس کی مدتِ ملازمت 5 سال مقرر کی گئی ہے۔آرمی چیف خود بخود چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر خدمات انجام دے سکے گا۔یہ تبدیلی پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں سب سے بڑی اصلاح قرار دی جا رہی ہے۔

نئے عدالتی ڈھانچے کی تشکیل

وفاقی آئینی عدالت 27ویں ترمیم کے تحت ایک نئی عدالت وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے، جو درج ذیل معاملات دیکھے گی

وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات

آئینی تنازعات عدالتی اصلاحات کے مقدمات

سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی

سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس (سو موٹو) لینے کے اختیارات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 184، 186 اور 191کو حذف کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس کے تقرر کا نیا طریقۂ کار متعارف کر دیا گیا ہے۔اب سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) میں سے سینئر ترین جج چیف جسٹس کہلائے گا۔

ججز کی تقرری اور تبادلوں میں تبدیلی

صدرِ پاکستان کو ججوں کی تقرری کے عمل میں پہلے سے زیادہ اختیار دے دیا گیا ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری حکومتِ پاکستان کرے گی۔آرٹیکل 200 کے تحت ہائی کورٹ کے ججوں کا صوبوں کے درمیان تبادلہ کیا جا سکے گا۔اگر کوئی جج تبادلے سے انکار کرے گا تو وہ ریٹائر تصور کیا جائے گا۔

آرٹیکل 6 میں ترمیم

سنگین غداری میں ملوث کسی بھی شخص کو کسی عدالت چاہے وہ سپریم کورٹ ہو، ہائی کورٹس ہوں یا وفاقی آئینی عدالت کی طرف سے کوئی رعایت یا استثنا نہیں دیا جائے گا

دیگر اہم ترامیم

مختلف انتظامی اور عدالتی شقوں میں مزید تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کا مقصد آئینی ڈھانچے میں ادارہ جاتی اختیارات کی نئی تقسیم متعارف کرانا ہے۔

صدر اور کابینہ کے اختیارات

آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد تا حیات قانونی استثنا حاصل ہوگا۔آرٹیکل 93 میں ترمیم سے صدر کے مشیروں کی تعداد 5 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی۔آرٹیکل 130 کے تحت وزارتی کابینہ کی تعداد 15 سے بڑھا کر 17 کر دی گئ

پارلیمانی منظوری

قومی اسمبلی میں234 ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا4 نے مخالفت کی اس سے ایک دن قبل سینیٹ بھی اسے 64 ووٹس سے منظور کر چکی تھی۔ترمیم صدر کے دستخط کے بعد آئین کا حصہ بن چکی ہے

حکومتی مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترمیم سے اداروں میں ہم آہنگی بڑھے گی اور قومی وحدت مضبوط ہوگی۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن نے بل پڑھے بغیر واویلا کیا اور یہ ترامیم ریاست اور اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر تھیں۔

بلاول بھٹو کا موقف

بلاول بھٹو نے کہا کہ:27ویں ترمیم کے ذریعے ایک نئی عدالت قائم کی جا رہی ہےکچھ انتظامی اختیارات مقامی سطح پر واپس لائے جائیں گے

اپوزیشن کا ردعمل

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے زبردست احتجاج کیا،بل کی کاپیاں پھاڑ دیں واک آؤٹ کیاکہا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیاتاہم سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف اور نے یو آئی ف کے ایک ایک رکن نے ترمیم کی حمایت کی۔گوہر علی خان نے اسے جمہوری عمل اور عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ذلفی بخاری نے کہا کہ اس ترمیم سے پاکستان “ریپبلک“ کے راستے پر چل پڑا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ 26 اور 27 ترمیم کو ہماری حکومت آنے کے فوراً بعد تبدیل کر دیں گے

ماہرینِ قانون کی آراء

اسد رحیم خان نے کہا کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ ہے اور ملک کو آئینی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مرزا موئز بیگ نے اسے عدلیہ کی خودمختاری کے “تابوت میں آخری کیل“ قرار دیا،ان کے مطابق وزیراعظم اور صدر اب ججز کی تقرری پر زیادہ اثر انداز ہو سکیں گے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹس نے بھی 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ ترمیم عدلیہ کی اُس بنیادی صلاحیت کو متاثر کرے گی جس کے ذریعے وہ حکومت اور ایگزیکٹو کو آئینی طور پر احتساب کے دائرے میں رکھتی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ عدالتی کمزوری ریاست میں طاقت کے عدم توازن کو بڑھا سکتی ہے، جس سے عوامی حقوق اور انصاف کا معیار متاثرہوگا

ججز کے استعفوں کی اندرونی کہانی

ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفا دے دیا۔استعفے کی اندرونی تفصیلات

دونوں ججز نے رات گئے سپریم کورٹ میں ساتھی ججز سے ملاقاتیں کیں۔ساتھی ججز نے انہیں استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا۔متعدد ججز آخری وقت تک دونوں کو منانے کی کوشش کرتے رہے۔تاہم دونوں ججز نے فیصلہ برقرار رکھتے ہوئےالوداعی ملاقاتیں کیں چیمبرز سے نکلےاور اپنے استعفے جمع کرا کر سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق:دونوں ججز اس ترمیم کے ذریعے عدالتی اختیارات میں کمی اور عدلیہ کی کمزور ہوتی حیثیت پر سخت پریشان تھے،یہی صورتحال انہیں استعفے پر مجبور کرنے کا بنیادی سبب بنی

ذاتی تجزیہ

میرے نزدیک یہ ترمیم عدلیہ کو غیر معمولی حد تک کمزور کرتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں عدلیہ کے کچھ فیصلوں سے طاقتور حلقے ناخوش تھے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ موقع حکومت اور اداروں نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔جس عدلیہ کو ماضی میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا،آج اسی عدلیہ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔پاکستان کوئی چین یا سعودی عرب نہیں کہ کمزور عدلیہ کے باوجود حکمرانی کا سسٹم مضبوط رہے۔یہاں عدلیہ کمزور ہونے سے عام شہری متاثر ہوتا ہے۔ریاست مضبوط ضرور ہو رہی ہے، لیکن عوام کے بنیادی حقوق غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔